BACK TO INDEX PAGE 

زبان کی آفتوں میں سے ایک آفت چغلی

زبان کی آفتوں میں سے ایک آفت چغلی بھی ہے، چغلی وہ عمل ہے جس کے ذریعے دو افراد کے درمیان پھوٹ، جدائی اور اختلاف پیدا کیے جاتے ہیں۔

چغل خوری اور غیبت ایک ایسی چيز ہے جس میں تقریبا ہر مسلمان مبتلا ہے۔
زیادہ تر لوگ ان چيزوں سے بچنے کی کوشش کرتے   ہیں مگر وہ اس مکروہ فعل سے بچ نہیں پاتے۔
یا تو ہم ایک کمرے میں بند ہوکر دنیا سے کٹ جائين یا پھر دنیا میں رہ کر اپنے منہ کو سی لیں تب جاکر ان دونوں برائیوں سے بچ جائيں گے ۔ اس دنیا میں ہر بندے کو کوشش کرنی چاہیے ان شیطانی برائیوں سے بچنے کی۔

ارشاد ربانی ہے: }وَلا تُطِعْ كُلَّ حَلافٍ مَهِینٍ (10) هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِیمٍ] { القلم: 10-11]

(ترجمہ: اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آ جانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہے۔ طعن آمیز اشارتیں کرنے والا چغلیاں لئے پھرنے والا۔ )


چغلی کے اسباب
چغلی کے اسباب میں حسد، کراہیت و نفرت، اور مفاد کے حصول کی حرص شامل ہے۔
چغلی کا حکم اور شرعی دلائل
۱۔ چغلی گناہ کبیرہ ہے، کتاب وسنت اور اجماع امت سے اس کی حرمت ثابت ہے، ارشاد ربانی ہے:

وَلا تُطِعْ كُلَّ حَلافٍ مَهِینٍ (10) هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِیمٍ [القلم: 10-11] (ترجمہ: اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آ جانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہے۔ طعن آمیز اشارتیں کرنے والا چغلیاں لئے پھرنے والا۔ )

۲۔ قرآن کریم میں چغلی کو حطب یعنی لکڑی سے تعبیر کیا گیا ہے، چونکہ چغلی باعث عداوت اور فساد ہے، اللہ تعالیٰ نے ابولہب کی بیوی کو حمالۃ الحطب کے لقب سے بیان فرمایا۔

۳۔ چغلخور کو اللہ تعالیٰ نے فاسق قرار دیا، ارشاد ربانی ہے:

یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا أَنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِینَ ] الحجرات: 6]

(ترجمہ: مومنو! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے۔ )

نیز ارشاد ہے:

[وَیْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ] [الهمزة: 1]،

(ترجمہ: ہر طعن آمیز اشارے کرنے والے چغل خور کی خرابی ہے۔ )

چغلی کا عمل مومنین مرد اور عورتوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کا باعث ہے، جس سے مومنین کو تکلیف پہنچتی ہے، دین اسلام نے مومن بھائی کو کسی بھی قسم کی تکلیف دینا حرام قرار دیا۔
دورخی آدمی
چغلخور دورُخہ یا دوغلاپن اختیار کرنے والا ہوتا ہے، چونکہ اس کا کام ہر ایک کے سامنے اپنی الگ تصویر پیش کر کے آپس میں پھوٹ ڈالنا ہوتا ہے، دوغلاپن اختیار کرنے والا کل روز قیامت بدترین شخص ہو گا، بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے، نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

إن شرّ النّاس ذو الوجهین الّذی یأتی هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه [متفق علیه].

(ترجمہ:روز قیامت بدترین شخص وہ ہو گا جو دورُخہ ہو گا کہ ایک کی باتیں دوسرے کو اور دوسرے کی پہلے کو پہنچاتا ہو)


چغلخور کے تئیں ایک بندہ مسلم کا کیا موقف ہو؟
۱۔ چغلی کرنے والے کی تصدیق نہ کرے۔

۲۔ چغلخور کو اس کی اس حرکت سے منع کرے۔

۳۔ چغلخور سے اُس کے گناہ کی وجہ سے بغض رکھے۔

۴۔ چغلخور کی بات پر اپنے غائب بھائی سے بدگمان نہ ہوں۔

۵۔ چغلخور کی بات کے سبب، اُس بات کے سلسلے میں کھوج نہ کرے۔

۶۔ جو شخص چغلخور کو راضی نہیں کرتا وہ اُس کے فتنے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔

رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا یدخل الجنہ نمام
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔
(سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الادب :4871)

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دو قبروں کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے انکی طرف اشارہ کر کے فرمانے لگے:
یہ دونوں عذاب میں مبتلا ہیں لیکن انہیں کسی کبیرہ گناہ کی بناء پر عذاب نہیں دیا جارہا، ان میں سے ایک پیشاب کی چھینٹوں سے اپنے آپ کو نہیں بچاتا تھا اور دوسرا چغل خور تھا

بھائیو اور بہنوں چغل خور اس گناہ کو گناہ سمجھ ہی نہیں پاتا
اس لئے ایسے گناہوں سے کم ہی لوگ بجتے ہیں
اس گناہ کو پہچانیں اور اس سے بچیں
اللہ ہمیں عذابِ قبر سے محفوظ رکھے ​
جس سے چغلی کی جائے اسے کیا کرنا چاہیے​


امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ جس سے چغلی کی جائے یا جس کو کہا جائے کہ فلاں تیرے بارے میں یوں کہتا ہے یا یوں کرتا ہے تو اس کے لیے 6 امور کی پابندی لازمی ہے-

٭ اس کی تصدیق بالکل نہ کرے کیونکہ چغل خور فاسق (گنا ہگار) ہوتا ہے-

٭ اس کو ایسا کرنے سے منع کردے اور اس کو نصیحت کرے اور اس کے کام کو برا سمجھے-

٭ اللہ کی رضا کر لیے اس سے نفرت کرے کیونکہ اللہ تعالی اس سے نفرت کرتا ہے اور جس سے اللہ نفرت کرے اس سے نفرت کرنا واجب (ضروری) ہے-

٭ اپنے غائب بھائی کے لیے برائی کا خیال تک نہ کرے-

٭ اس کی بیان کردہ بات کو تحسس اور غور کرنے کے لیے اہمیت ہی نہ دے-

٭ جس سے چغل خور روکے اس کو پسند نہ کرے اور نہ ہی اس کی چغلی کو آگے بیان کرتے ہوئے یوں کہے کہ فلاں یوں کہتا تھا کیونکہ ایسا کرنے سے وہ بھی چغل خور بن جائے گا اور منع کی ہوئی بات کرنے کا مرتکب ہوجائے گا-


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کس کو کہتے ہیں؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے (مسلمان) بھائی (کی غیر موجودگی میں اس) کے بارے میں ایسی بات کہنا جو اسے ناگوار گزرے (بس یہی غیبت ہے) کسی نے عرض کیا: اگر میں اپنے بھائی کی کوئی ایسی برائی ذکر کروں جو واقعتا اس میں ہو (تو کیا یہ بھی غیبت ہے)؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا اگر وہ برائی جو تم بیان کررہے ہو اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ برائی (جو تم بیان کررہے ہو) اس میں موجود ہی نہ ہو تو پھر تم نے اس پر بہتان باندھا۔
(سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الادب :4874) (مسلم)


حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے کہا آپ ﷺ کے لئے صفیہؓ (زوج النبیؐ) کا یہی نقص کافی ہے یعنی ان کا قد چھوٹا ہے (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے ایک ایسا کلمہ کہا ہے اگر اسے سمندر کے پانی سے ملا دیا جائے تو یہ اس پر غالب آجائے (اس بات کی تاثیر سمندر کے پانی پر غالب آجائے)۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہے کہ میں نے آپ ﷺ کے سامنے کسی شخص کی نقل اتاری تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھے کسی انسان کی نقل اتارنا پسند نہیں اگرچہ مجھے جتنا مرضی مال کیوں نہ مل جائے۔
(سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الادب :4875)


حضرت ابو سعد اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا غیبت کرنا زنا سے زیادہ (برا) ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یارسول اللہ غیبت کرنا زنا سے زیادہ (برا) کیسے ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آدمی اگر زنا کرلیتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتے ہیں۔ مگر غیبت کرنے والے کو جب تک وہ شخص معاف نہ کردے جس کی اس نے غیبت کی ہے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے معاف نہیں کیا جاتا۔
(بیہقی)


حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب میرا رب مجھے معراج پر لے گیا تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے وہ اپنے چہروں اور سینوں کو (ناخنوں سے) نوچ رہے تھے۔ میں نے پوچھا اے جبرائیلؑ یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے (ان کی غیبتیں کرتے تھے) اور ان کی عزتیں پامال کرتے تھے۔
(ابوداوُد)


حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے وہ لوگو جو صرف زبانی اسلام لائے ہو اور ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا ۔مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو اور ان کے عیوب کے پیچھے نہ پڑا کرو کیونکہ جو مسلمانوں کے عیوب کے پیچھے پڑتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے عیب کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اسے گھر بیٹھے رسوا کردیتے ہیں۔
(ابوداوُد)


حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک بدبو اٹھی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جانتے ہو یہ بدبو کس کی ہے؟ یہ بدبو ان لوگوں کی ہے جو مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں۔
(مسند احمد، مجمع الزوائد)


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو بندہ دنیا میں کسی کے عیب کو چھپائے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے عیب کو چھپائے گا۔
(مسلم ، کتاب البر والصلۃ )


حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم کو یہ نہ بتاؤں کہ کیا چیز سخت حرام ہے؟ پھر فرمایا یہ چغلی ہے جو لوگوں کے درمیان پھیل جاتی ہے۔ انسان سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ صدیق (سچا) لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کو کذاب (جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔
(مسلم ، کتاب البر والصلۃ )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ نے ارشاد فرمایا ان دونوں قبر والوں کو عذاب ہورہا ہے اور عذاب بھی کسی بڑی چیز پر نہیں ہورہا (کہ جس سے بچنا مشکل ہو) ان میں سے ایک تو پیشاب کی چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا تھا۔
(بخاری)


حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب میں معراج پر گیا تو میرا گزر کچھ ایسے لوگوں پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے جن سے وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ نوچ کر زخمی کررہے تھے۔ میں نے جبرائیل سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ جبرائیل نے بتایا کہ یہ لوگ انسانوں کا گوشت کھایا کرتے تھے (یعنی ان کی غیبتیں کرتے تھے اور ان کی آبرو ریزی کیا کرتے تھے)۔
(ابوداوُد)

 

اللہ ہر مسلمان کو چغل خوری جیسی لعنت سے محفوظ رکھے جس میں آج کل ہم سب گرفتار ہیں۔ آمین

BACK TO INDEX PAGE