BACK TO INDEX PAGE  

غیبت

یہ ایک خطرناک آفت اور عظیم آزمائش ہے، نبی کریمﷺ نے اپنے اس قول سے غیبت کا مطلب بیان فرمایا:
تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں، آپﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے بارے میں وہ بات کرنا جو اسے ناپسند ہو، دریافت کیا گیا: آپ کیا فرماتے ہیں اُس قول کے بارے میں جو میرے بھائی میں موجود ہو، (اور اسے بیان کیا جائے) آپﷺ نے فرمایا: جو بات تم کہہ رہے ہو وہ اس میں موجود ہو تو تم نے غیبت کی، اور اگر اُس میں وہ بات نہ ہو جو تم کہہ رہے ہو تو پھر تم نے اُس پر بہتان لگایا۔

غیبت کی مثالیں :

۱۔ انسان کے جسم کی بناوٹ کے سلسلے میں بات کرنا، جیسے کسی بھائی کو نابینا، اندھا، کالا اور ٹھگنا کہنا۔

۲۔ انسان کے حسب ونسب کے سلسلے میں بات کرنا جیسے غلام، یا نچلی ذات سے کسی کو یاد کرنا۔

۳۔ کسی کے پیشے کو حقیر جانتے ہوئے یاد کرنا جیسے فراش، حجام اور قصاب کہنا۔

۴۔ شرعی امور سے متعلق بات کرنا، جیسے کسی کو چور، جھوٹا اور شرابی وغیرہ کہنا۔

۵۔ انسان کے ظاہری وضع قطع سے متعلق حقارت آمیز بات کہنا جیسے کسی کو لمبی آستین والا، لمبے کپڑوں والا یا اس طرح کے الفاظ سے یاد کرنا۔

۶۔ کسی کو کم ادب، باتونی، غافل، سست وغیرہ الفاظ سے یاد کرنا۔

مذکورہ تمام باتیں غیبت کے باب سے تعلق رکھتی ہیں، اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے والا اپنے مردار بھائی کا گوشت کھانے والے کے مترادف ہے۔


غیبت کی قسمیں



غیبت زبان سے کسی ناپسندیدہ بات کے ادا کرنے سے ہی نہیں ہوتی بلکہ ہر وہ حرکت، اشارہ یا نقل اور ہر وہ عمل جس سے کسی کی غائبانہ میں تقصیر اور تحقیر مقصود ہو حرام عمل اور غیبت میں شامل ہے۔


غیبت میں شرکت



غیبت کی باتیں سننا، غیبت کی مجالس میں موجود رہنا، غیبت کرنے والے کو اس کے عمل سے منع نہ کرنا یہ سب غیبت میں شرکت کرنے کے مترادف ہے۔

ارشاد نبویﷺ ہے: من ردّ عن عرض أخیه ردّ الله عن وجهه النّار یوم القیامة [رواه التّرمذی 1931 وصححه الألبانی]

(جس نے اپنے بھائی کی (عدم موجودگی میں ) اُس کی جانب سے دفاع کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے سے آگ یعنی جہنم کو ہٹائیں گے۔ )

إنّ الصّدیق الصّدق من صدقك***ومن یضرُّ نفسه لینفعك

ومن إذا ریبُ الزّمان ضعضعك***فرّق فیك شملهُ لیجمعك

(ترجمہ: دوست وہ ہے جو آپ کی تصدیق کرے، جو آپ کے فائدے کے لئے اپنے آپ کو نقصان میں ڈالے، جب آپ کو آزمائش زمانہ کمزور و بے بس کر دے تو دوست آپ کی تقویت کے لئے اپنی جماعت کو جدا کر دے۔)


غیبت کے اسباب



۱۔ کراہیت اور نفرت

۲۔ حسد جو صاحب غیبت کے دل کو کھا جاتا ہے۔

۳۔ فتنہ وفساد کا ارادہ رکھنا۔

۴۔ قابل احترام شخصیات کی تنقیص کرنا۔

۵۔ ہم نشینوں کی موافقت


غیبت کی جائز قسمیں



۱۔ ظلم: مظلوم قاضی کے سامنے ظالم کے ظلم اور خائن کی خیانت کے بارے میں شکایت کر سکتا ہے۔

۲۔ کسی کی برائی کا اُس شخص کے سامنے ذکر کرنا جو اس کے اصلاح کی طاقت رکھتا ہو، اس ارادے سے کہ نافرمان راہ راست پر آ جائے۔

۳۔ مفتی کے سامنے فتوی معلوم کرنے کے لئے صورتحال بیان کرنا، مثال کے طور پر بیوی کا اپنے شوہر سے متعلق بات کرنا۔

۴۔ مسلمان کو کسی کے شر سے محفوظ رکھنے کے لئے۔


غیبت کا شرعی حکم اور اس کے دلائل



کتاب وسنت اور اجماع امت سے غیبت کا حرام اور گناہ کبیرہ ہونا ثابت ہے، قرآن نے غیبت سے نفرت دلانے کے لئے صاحب غیبت کو اپنے مردار بھائی کا گوشت کھانے والے کے مترادف قرار دیا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

}وَلا یَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَیُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ یَأْكُلَ لَحْمَ أَخِیهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ{ [الحجرات:12]

ترجمہ: اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟تو تم ضرور نفرت کرو گے۔ (تو غیبت نہ کرو)



۱۔ اپنے نفس کے عیوب تلاش کرنا:

انبیاء اور رسولوں کے علاوہ کوئی بھی انسان نفس کے عیوب سے پاک نہیں ہوسکتا، انسانوں میں کوئی شخص بے شمار عیبوں والا ہوسکتا ہے اور کوئی بہت کم عیب والا، تاہم ہر فرد میں کچھ نہ کچھ عیوب ہوتے ہیں، لہٰذا بندے کو چاہیے کہ اپنے عیوب کو تلاش کرے اور ان کے اصلاح کی فکر کرے، یہ عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ اور بہتر ہے۔



۲۔ نقصان دہ تجارت:

صاحب غیبت اپنی نیکیوں اور حسنات کو برباد کرنے والا ہے، نیز وہ غیبت کے ذریعے اپنی نیکیوں کو جس کی غیبت کر رہا ہے، اس کے کھاتے میں منتقل کرنے والا ہے، غیبت کرنے والے کا حال ایسا ہے کہ وہ بیک وقت گناہ بھی کرتا ہے اور اپنی نیکیوں کو ضائع کر کے اپنے محسود کا فائدہ بھی کرتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

اگر میں کسی کی غیبت کرتا تو اپنے والد کی ہی غیبت کر لیتا



۳۔ غیبت سے توبہ:

غیبت کرنے والا دوقسم کے جرائم کا مرتکب ہوتا ہے:

ایک جرم تو اللہ تعالیٰ کے حق میں کرتا ہے، جس کا کفارہ یہ ہے کہ اپنے جرم پر ندامت کا اظہار کرے، جبکہ دوسرا جرم بندے کے حق میں کرتا ہے، جس کا کفارہ یہ ہے کہ جس کی غیبت کی ہے، اگر اُس شخص کو غیبت کا علم ہوا ہو تو اس سے معذرت کا اظہار کرے، اور اگر اس کو غیبت کا علم نہ ہوا ہو تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرے اور اُس بندے کے حق میں نیک دعا کرے، نیز یہ یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے اور اللہ کے فرشتے اس کے ایک ایک عمل کو قلمبند کر رہے ہیں۔

BACK TO INDEX PAGE