BACK TO INDEX PAGE 

جھوٹ کے اثرات
جھوٹ کے تباہ کن اثرات سے جھوٹے لوگ اگر واقف ہو جائیں تو وہ جھوٹ سے ضرور توبہ کر لیں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہو جائیں گے، ذیل میں ہم چند تباہ کن اثرات کی جانب اشارہ کر رہے ہیں :

۱۔ لوگوں کے نزدیک جھوٹے شخص کے سلسلے میں شک و شبہات پیدا ہو جاتے ہیں۔

۲۔ جھوٹا شخص منافقین کی خصوصیات میں شامل ہو جاتا ہے جبکہ منافقین کل قیامت کے دن جہنم کے بالکل نچلے حصے میں ڈال دیئے جائیں گے۔

۳۔ بیع و شراء میں سے برکت اٹھا دی جاتی ہے، کیونکہ خرید و فروخت کے دوران شیطان جھوٹ بولنے پر زیادہ نفع اور کثیر فائدے کی لالچ بتاتا ہے، ایسے وقت میں بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کو بھول کر شیطان کی اتباع کر کے اپنے تجارت کی برکت کو ختم کر دیتا ہے۔

۴۔ لوگوں کے درمیان سے جھوٹے شخص پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔

۵۔ حقائق بدل جاتے ہیں، چونکہ جھوٹ کے خراب اثرات کے نتیجے میں جھوٹا شخص حق کو باطل اور باطل کو حق نیز معروف کو منکر اور منکر کو معروف کی شکل دیتا ہے۔

۶۔ جھوٹ کی وجہ سے اعضاء جسمانی پر دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں، سب سے پہلے جھوٹ نفس سے زبان کی جانب سرایت کرتا ہے اور اسے خراب کرتا ہے پھر اعضاء میں سرایت کرتا ہے اور اعضاء کو بھی خراب کر دیتا ہے۔

درحقیقت جھوٹے شخص کی راہ و منزل جہنم ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو جہنم سے بچائے۔

وإنّ الكذب یهدی إلى الفجور، وإن الفجور یهدی إلى النّار، وإنّ الرجل لیكذب، حتى یكتب عند الله كذابًا [متفق علیه]

(ترجمہ: جھوٹ فسق و فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فسق و فجور جہنم کی جانب لے جاتے ہیں، آدمی جھوٹ بولتا ہے حتی کہ اللہ تعالیٰ کے پا س اسے جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ )



حضرت نفیع بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں تم کو بڑے بڑے گناہ نہ بتادوں؟ تین بار یہ فرمایا ۔صحابہؓ نے کہا کیوں نہیں یارسول اللہ بتلایئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ آپ ﷺ تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ تکیہ سے الگ ہوگئے فرمایا اور جھوٹ بولنا، سن رکھو بار بار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم (دل میں) کہنے لگے کاش آپﷺ چپ ہوجاتے۔
(بخاری، جلد اول کتاب الشہادات حدیث نمبر :2479)


حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین قسم کے آدمیوں سے بات نہیں کرے گا اور نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کرے گا نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا اور ان کو درد ناک عذا ب ہوگا۔ ۱۔بوڑھا (ہونے کے باوجود) زنا کرنے والا۔ ۲۔جھوٹ بولنے والا بادشاہ۔ ۳۔تکبر کرنے والا فقیر۔
(مسلم ، کتاب الایمان)


حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں میں صلح کرائے اچھی بات کہے اور دوسرے کی طرف سے اچھی بات کرے۔
(مسلم ،کتاب البر والصلۃ )


حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم کو یہ نہ بتاؤں کہ کیا چیز سخت حرام ہے؟ پھر فرمایا یہ چغلی ہے جو لوگوں کے درمیان پھیل جاتی ہے انسان سچ بولتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ صدیق (سچا) لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کو کذاب (جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔
(مسلم ،کتاب البر والصلۃ )


حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چار (صفات) جس شخص میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے ایک صفت ہو اس میں نفاق کا ایک حصہ ہے حتی کہ اس (عادت) کو چھوڑ دے ۔جب بات کرے جھوٹ بولے۔ جب وعدہ کرے۔ تو خلاف ورزی کرے۔ جب عہد و پیمان باندھے تو اسے توڑ دے۔ اور جب کوئی جھگڑا وغیرہ ہوجائے تو گالی گلوچ پر اتر آئے۔
(سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب السنۃ :4688)


حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں ایسے شخص کو جنت کے اطراف میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا نہ کرے، ایسے شخص کو جنت کے وسط میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو مزاح کے طور پر بھی جھوٹ بولنا چھوڑ دے اور ایسے شخص کو جنت اعلیٰ میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو اپنے اخلاق عمدہ بنالے۔
(سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الادب :4800)


حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو تین چیزوں میں جھوٹ بولنے کی رخصت دیتے ہوئے سنا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں ایسے شخص کو جھوٹا نہیں سمجھتا جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے کوئی بات کرتا ہے اس کا مقصد صرف اور صرف اصلاح ہوتا ہے۔ جو دوسر اوہ شخص جنگ کے موقع پر بات کرتا ہے۔ اور تیسرا وہ شخص جو اپنی بیوی سے کوئی بات کرتا ہے اور بیوی خاوند سے کوئی بات کرتی ہے۔
(سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الادب:4921)


حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ فسق فجور کی طرف لگاتا ہے اور فجور(گناہ) آگ کی طرف لے جاتے ہیں۔ کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ میں مبالغہ کی حد تک پہنچ جاتا ہے حتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جھوٹا لکھا جاتا ہے۔ سچائی اختیار کرو کیونکہ سچائی نیکی کی راہنمائی کرتی ہے اور نیکی یقیناًجنت کی طرف لے جاتی ہے۔ انسان سچ بولتا رہتا ہے اور سچ کی تلاش میں رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سچا لکھا جاتا ہے۔
(سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الادب :4989)


حضرت بہنر بن حکیمؒ اپنے والد سے اور وہ اپنے والدؓ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اس شخص کے لئے ویل (ہلاکت، جہنم) ہے جو جھوٹی بات کرتا ہے تاکہ اس سے لوگ ہنسیں (جو لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے) اس کے لئے ویل ہے ویل ہے۔
(سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الادب :4990)(ترمذی)


حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری والدہ نے ایک روز مجھے بلایا اس وقت رسول اللہ ﷺ ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے انہوں نے کہا آؤ، لے لو میں تمہیں دوں گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں اسے کھجور دوں گی۔ پس آپ ﷺ نے فرمایا سن لو۔ اگر تم نے اسے کوئی چیز نہ دیتیں تو تمہارے اوپر ایک جھوٹ لکھ لیا جاتا۔
(سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الادب :4991)

حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ میری ایک سوکن ہے کیا اس بات پر مجھے گناہ ہوگا کہ میں اس کے سامنے ایسی چیزوں کا اظہار کروں جو میرے خاوند نے مجھے نہیں دیں۔ آپ نے فرمایا جو کوئی اپنے پاس ایسی چیزوں کا اظہار کرے جو اس کو نہیں ملیں ایسے ہے جیسے جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا (یعنی دہرا جھوٹ بولنے والا)۔
(سنن ابی داوُد، جلد سوئم کتاب الادب :4997)


حضرت حمید بن عبدالرحمن اپنی والدہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے صلح کرانے کے لئے ایک فریق کی طرف سے دوسرے فریق کو (فرضی) باتیں پہنچائیں اس نے جھوٹ نہیں بولا (یعنی اسے جھوٹ بولنے کا گناہ نہیں ہوگا)۔
(ابوداوُد)


حضرت معاویہ بن حِیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا اس شخص کے لئے بربادی ہے جو لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولے۔ اس کے لئے تباہی ہے اس کے لئے تباہی ہے۔
(ترمذی)


حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس کے جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے ایک میل دور چلا جاتا ہے۔
(ترمذی)


حضرت سفیان بن اسید حضرمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے کوئی جھوٹی بات بیان کرو حالانکہ وہ تمہاری اس بات کو سچا سمجھتا ہو۔
(ابوداوُد)


حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مومن میں پیدائشی طور پر ساری خصلتیں ہوسکتی ہیں (خواہ اچھی ہوں یا بری) البتہ خیانت اور جھوٹ کی (بری) عادت نہیں ہوسکتی۔
(مسند احمد)


حضرت صفوان بن سلیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہوسکتا ہے پھر پوچھا گیا کیا بخیل ہوسکتا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہوسکتا ہے۔ پھر پوچھا گیا کیا جھوٹا ہوسکتا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جھوٹا نہیں ہوسکتا۔
(موطا امام مالک)


حضرت حفص بن عاصم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے اسے (بغیر تحقیق کے) بیان کرے۔
(مسلم)


جھوٹ کی تباہ کن شکلیں



جھوٹ سراسر قباحت اور برائی ہے، نیز جھوٹا شخص جھوٹ کی قباحتوں کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی سخت وعیدوں کا بھی اہل ہو جاتا ہے۔ جھوٹ کی شکلوں کا ہم ذکر کر رہے ہیں :

۱۔ سامان فروخت کرنے کے لئے جھوٹی قسم کھانا۔

۲۔ جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کے مال کو ہڑپ کرنا۔

۳۔ جھوٹا خواب بیان کرنا۔

۴۔ کسی واقعے کی غلط خبر دینا وغیرہ


جھوٹ سے بچنے کے طریقے



۱۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کا استحضار کریں، اور اس کی ذات پر قوی اعتماد رکھیں، چونکہ انسان خیالی اشیاء کے خوف میں جھوٹ بولنے لگتا ہے اور شیطان اس کے دماغ میں جھوٹ کی شکلیں پیدا کرتا ہے۔

۲۔ قطعی یقین ہو کہ جو نوشتہ تقدیر میں لکھا ہے وہ ہو کر رہے گا۔

۳۔ ریاضت نفس یعنی نفس کو ایسے اعمال پر آمادہ کریں جو مطلوبہ اخلاق کی متقاضی ہو، چونکہ نفس کا حال بچے کی طرح ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ زبان دل کی ترجمان ہوتی ہے، اگر دل خیر سے معمور ہے تو زبان سے خیر و بھلائی کے پتے جھڑنے لگتے ہیں اور اگر دل شرور وفساد کا منبع ہے تو پھر زبان سے خاردار پتیاں جھڑنے لگتی ہیں۔

إن الكلام لفی الفؤاد وإنّما***جُعِل اللسان على الفؤاد دلیلًا

(ترجمہ:گفتگو کا اصل مرکز دل ہے اور زبان کو دل کا ترجمان بنایا گیا ہے۔ )

ہمارا حال اس طرح نہیں ہونا چاہیے:

إن یعلموا الخیر أخفوه وإن علموا** شرًّا أذاعوا وإن لم یعلموا كذبوا

(ترجمہ: انہیں خیر کا علم ہو تو اسے چھپاتے ہیں اور اگر شر کی خبر ہو تواسے پھیلاتے ہیں، اور اگر کسی بات کا علم نہ ہو تو جھوٹ بولنے لگتے ہیں )

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

عقلمند کی زبان اُس کے دل کے تابع ہوتی ہے، جب بات کرنے کا ارادہ ہوتا ہے تو پہلے سوچتا ہے، اگر فائدہ نظر آئے تو بات کرتا ہے ورنہ خاموش رہتا ہے۔

حضرت لقمان نے اپنے فرزند کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

اے بیٹے! جب لوگوں کو اپنے حُسن کلام پر فخر کرتے ہوئے دیکھو تو تم اپنے حُسن سکوت پر فخر کرو۔

BACK TO INDEX PAGE