BACK TO INDEX PAGE


اپنے دسترخوان کو انواع اقسام کے کھانوں سے سجاتے ہوئے کون دیکھے کہ اس کے ہمسایے کے پاس روزہ افطار کرنے کے لیے کچھ ہے بھی یا نہیں۔

ایک عجیب ہڑبونگ مچی ہوئی ہے۔ ہر طرف افراتفری نظر آرہی ہے، لڑائی جھگڑے عام نظر آرہے ہیں۔ کسی کا گریباں چاک ہے توکسی کا سر کھلا ہے۔ کسی کا بی پی غصے سے ہائی ہے تو کوئی اپنا دل پکڑے بیٹھا ہے۔ یعنی ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے۔ پہلے پہل تو روزِ قیامت کے بارے میں سنتے تھے کہ نفسا نفسی کا عالم ہوگا لیکن اب دنیا میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ دھکم پیل نمایاں ہے۔ بازاروں میں غلط پارکنگ پر تو تکرار معمول بن چکی ہے۔ فقیروں کی بڑھتی تعداد پر نامناسب لفظوں کی بہتات ہے۔ یہ سب کچھ آپ کو رمضان الکریم جیسے با برکت مہینے میں نظر آرہا ہے۔ جی ہاں!!! رمضان جیسے بابرکت مہینے میں آپ کو یہ تمام مناظر بکثرت دیکھنے کو مل رہے ہوں گے۔ بہت سے لوگ شاید میرے لفظوں سے اختلاف کریں گے لیکن مشاہدہ یقیناً ان کے اختلاف میں دراڑ ضرور ڈال دے گا۔ کیوں کہ میں آنکھوں دیکھا حال ہی بیان کر رہا ہوں۔

رمضان رحمتوں کا مہینہ ہے۔ مساجد سے بلندوبانگ سریلے لہجے میں، پیارے لفظوں میں قراء حضرات، نعت خواں حضرات، مشائخ و عظام، علماء وخطباء امت مسلمہ کو جنجھوڑ کر یہ باور کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ اس مہینے میں صبر و برداشت کا کتنا ثواب ہے۔ اس مہینے میں ایک نیکی کا کتنا ثواب ہے؟ بلکہ نیکی کی نیت کا ثواب بھی عام دنوں کی نیکیوں سے کئی زیادہ ہے۔ نماز تراویح کا اہتمام کیا جارہا ہے۔ درس میں غرباء، مساکین کی مدد کرنے کی طرف راغب کیا جارہا ہے۔ لڑائی جھگڑے سے حتیٰ الوسع بچنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ لوگوں کی غلط بات پر بھی غصہ پی جانے کا درس دیا جا رہا ہے۔ صبر و برداشت کا عملی نمونہ بننے کے لیے ارشادات صادر فرمائے جا رہے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی کی صورت میں قہر الٰہی سے ڈرایا جا رہا ہے۔ منافع زیادہ لینے کی صورت میں جہنم منزل بتائی جا رہی ہے۔ اپنے دستر خوان پر ہمسائیوں کو شامل کرنے کی فضیلت بیان کی جارہی ہے۔

لیکن حیران کن طور پر یہ ان تمام ہدایات و دروس کے باوجود اس بابرکت مہینے میں بھی لوگ ذہنی سکون کو ترس رہے ہیں۔ لوگ نماز تراویح کے بعد جوتا چور کو کوس رہے ہیں۔ تلاوت قرآن کو دلوں میں سمونے کے بجائے دنیاوی مفادات ذہنوں پر حاوی نظر آتے ہیں۔ آسان نیکیوں کو چھوڑ کر مشکل ترین گناہ اپنے پلے باندھے جا رہے ہیں۔ کسی جگہ لوگ گاڑی غلط پارک کرنے پر باہم دست و گریباں ہوں گے تو کہیں راستہ نہ دینے پر ہذیان لبوں سے جاری ہے اور ذخیرہ اندوزوں کے تو کیا کہنے۔ ان کے لیے تو یہی ایک مہینہ سیزن ہے۔ اس مہینے کے منافع سے وہ کیسے پیچھے ہٹ سکتے ہیں؟ رمضان کی برکتیں تو وہ بھوکا رہ کر سمیٹ ہی رہے ہیں، زیادہ منافع حاصل کرنا تو وہ اپنا حق سمجھتے ہیں۔ جہاں تک ہمسایوں کے حقوق کا تعلق ہے تو اتنا وقت کس کے پاس ہے کہ ان کے بارے میں سوچے۔ افراتفری کے عالم میں افطاری کے انتظامات کرتے ہوئے، اپنے دسترخوان کو انواع اقسام کے کھانوں سے سجاتے ہوئے کس کے پاس وقت ہے کہ جھانک کر دیکھے کہ اس کے ہمسائے کے پاس روزہ افطار کرنے کے لیے کچھ ہے بھی یا نہیں۔

یہ سب کچھ آپ کو رحمتوں والے مہینے میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ رحمتیں برس رہی ہیں لیکن ہم فلسفہء رمضان سے کوسوں دور ہیں۔ کیوںکہ ہم نے تو روزہ صرف بھوکا رہنے کو سمجھ لیا ہے۔ اگر روزہ صرف بھوکا رہنے کا ہی نام ہوتا تو اللہ جو انسان کو ستر (70) مائوں سے زیادہ محبت کرتا ہے وہ کیسے اسے بھوکا رکھ سکتا ہے۔ روزہ اگر صرف پیاس کی اذیت کا ہی نام ہوتا تو اللہ کیسے اپنے پیارے محبوب ﷺ کی امت کو یہ اذیت دے سکتا تھا؟ اللہ نے تو امت مسلمہ پر روزے اس لیے فرض کیے تاکہ تقویٰ آجائے۔ اللہ کو ہمارے بھوکے پیاسے رہنے سے تو کوئی غرض نہیں ہے۔ رمضان الکریم کا درس صبر و برداشت ہے۔ صبر و برداشت اس چیز کا نام نہیں کہ پورا دن صرف بھوکا پیاسا رہنے کی اذیت برداشت کرلی جائے بلکہ اگر غور کریں تو ہمارے معاشرے میں تمام معاشرتی برائیوں کی ابتداء ہی عدم برداشت سے ہوتی ہے۔ روزہ ہمیں برداشت کرنا سکھاتا ہے۔ اگر ہم یہ درس سیکھ لیں تو نہ صرف رمضان بلکہ باقی تمام مہینوں میں بھی رحمتیں سمیٹ سکتے ہیں۔

ایک ذخیرہ اندوز اگر خود کو ذخیرہ اندوزی سے روک لے تو وہ رمضان کا مقصد سمجھ جائے گا۔ تزکیہ نفس۔ نفس کو روکنا۔ نفس پر قابو رکھنا۔ نفس سے برداشت کرنا۔ ذخیرہ اندوز اپنے نفس پر برداشت کا تالا لگا کر ذخیرہ اندوزی سے باز رہ سکتا ہے۔ منافع خور اپنے نفس پر برداشت کی مہر لگا کر جائز منافع کما کر صارفین کو سہولت دے سکتا ہے۔ چور اپنے نفس پر قابو پاکر چوری سے خود کو روک سکتا ہے۔ زانی اپنے نفس کو برداشت کا عادی بنا کر زنا جیسی لعنت سے بچ سکتا ہے۔ راشی کسی بھی کام سے پہلے رشوت لینے سے اپنے نفس کو روک لے تو لوگوں کو آسانیاں ملنا شروع ہوجائیں گی۔ غلط چیز تک دسترس ہونے کے باوجود اگر نفس کو صبر و برداشت کا عادی بنا لیا جائے تو برائیوں سے جان چھوٹ سکتی ہے۔

اپنے ارد گرد پھیلی تمام برائیوں کا جائزہ لیں۔ تمام برائیاں نفسانی لذت کے لیے ہی تو ہیں۔ نفس حاوی ہے۔ جس سے انسان برائیوں کی طرف راغب ہو رہا ہے۔ رمضان کا حقیقی پیغام اگر نفس پر نافذ کردیا جائے تو ذرا سوچیں کہ معاشرہ کیا رخ اختیار کرے گا۔ رمضان کا پیغام صبر و برداشت ہے۔ یہی پیغام اپنے نفس پر لاگو کریں۔ نفس کو صبر کرنے اور برداشت کرنے کا عادی بنائیں۔ ایسا کرکے ہی رمضان کے حقیقی فلسفے کو پہچان پائیں گے۔ اگر ہمارا نفس صبر کرنا سیکھ جائے گا تو معاشرے میں سے غصہ ختم ہوجائے گا۔ معافی کا عنصر معاشرے کا حصہ بن جائے گا اور اگر نفس کو برداشت پر قائل کر لیا جائے تو ہر برائی کے ارادے کو ہی نفس رد کردے گا۔ جو یقیناً معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی لے کر آئے گا۔

رمضان کے بابرکت مہینے میں برکتیں سمیٹیں۔ رحمتیں برس رہی ہیں انہیں حاصل کیجیے۔ اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ اس رمضان میں اپنے رویوں کو بدلنے کا عہد کریں اور اس رمضان میں اپنے نفس کو صبر و برداشت کا عادی بنانے کا وعدہ اپنے آپ سے کریں۔ ایسا کر کے ہی رمضان کے حقیقی پیغام تک پہنچا جاسکتا ہے اور معاشرے کو پُرسکون بنایا جاسکتا ہے۔

BACK TO INDEX PAGE