BACK TO INDEX PAGE

دنیا کے مختلف اسلامی ممالک میں استقبال رمضان کے منفرد انداز
دنیا میں مختلف اسلامی ممالک میں لوگ رمضان المبارکا آغاز اپنی ثقافت ارو روایات کے مطابق کرتے ہیں،
دنیا بھر میں مسلمان کسی اسلامی ملک میں رہتے ہوں یا کسی غیر اسلامی ملک لیکن میں اپنے اپنے انداز میں رمضان المبارک کا استقبال کرتے ہیں مگر کچھ اسلامی ممالک میں لوگ رمضان کا استقبال اپنی علاقائی ثقافت اورروایات کے مطابق منفرد انداز میں کرتے ہیں۔
فلسطین: فلسطین میں لوگ رمضان المبارک کا استقبال بڑے جوش و خروش سے کرتے ہیں اور چاند نظر آنے کی خبر کے ساتھ ہی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں زبردست آتش بازی سے آسمان کو بقہ نور بنا دیتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ اس ماہ کو اپنی آزادی کے لیے نئی توانائی حاصل کرنے کا ذریعہ بنائیں گے۔ ماہ صیام کی آمد سے پہلے ہی فلسطین کے مختلف شہروں بالخصوص مقبوضہ بیت المقدس میں ایک نئی رونق اور چہل پہل شروع ہوجاتی ہے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت محلوں، گلیوں، گھروں اور مساجد کی صفائی میں جُت جاتے ہیں۔ شہریوں کی فلاح وبہبود کے لیے سرگرم کمیٹیاں شہر کی تزئین آرائش میں لگ جاتی ہیں اور رمضان المبارک تک شہر کو برقی قمقموں اور چراغاں کے ذریعے ایک نئے انداز میں خوبصورت بنایا جاتا ہے تاکہ باہرسے بیت المقدس کی زیارت اور قبلہ اول میں عبادت کی غرض سے آنے والے شہرمقدس کی تاریخ کے ساتھ اس کی موجودہ خوبصورتی سے بھی لطف اندوز ہوسکیں۔
انڈونیشیا: انڈونیشیا میں رمضان کی آمد کے ساتھ ہی تقریبات پر میوزک بچانے والے گروپ ڈرم بجاتے گلیوں میں نکل آتے ہیں اور لوگوں کو دوسروں کے لیے قربانی دینے کے جذباتی گانے گاتے ہیں۔ انڈوینشیا کے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں کی روایت ہے کہ رمضان المبارک چاند نظر آتے ہی لوگ روحانی غسل کرتے ہیں اور اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ اس طرح وہ اس ماہ خود کو گناہوں سے پاک کر لیں گے۔
ترکی: ترکی جسے مساجد کا ملک کہا جاتا ہے وہاں رمضان کے چاند نظر آنے کے ساتھ ہی مسجدوں کو جلتے بجھتے قمقموں سے اس طرح سے سجادیا جاتا ہے کہ مینار زیادہ واضح نظر آئیں جب کہ ان روشنیوں سے بڑے بڑے الفاظ میں ایثارو قربانی دینے والے پیغامات لکھ دیئے جاتے ہیں جو بہت دور سے بھی بہت واضح نظر آتے ہیں۔
بھارت: بھارت کے مسلم آبادی والے شہر حیدرآباد میں لوگ رمضان کی آمد کے موقع پر پہلے جمعہ کو اونٹ کا صدقہ کرتے ہیں۔
مصر: مصر میں رمضان کا استقبال لالٹین جلا کر کرتے ہیں جب کہ افطار کے موقع پرتوپ کے گولے چلا کر افطاری کا اعلان کیا جاتا ہے۔ لالٹینیں جلانے کی رسم کچھ اور ممالک میں بھی موجود ہے تاہم اس کا آغاز مصر سے ہوا جسے فینس یا فیناوی کہا جاتا ہے۔ لالٹینیں ری سائیکلنگ کی ہوئی ٹن سے کینز سے بنائی جاتی ہیں بلکہ کچھ علاقوں میں تو نئے پلاسٹک سے بنائی جاتی ہیں جب کہ دور جدید میں نت نئے ڈیزائن کی لالٹین بھی بنائی جاتی ہیں جو مصری رمضان میں اپنے گھروں میں روشن کرتے ہیں۔
ان لالٹینوں سے جڑی کئی روایات ہیں جن میں سے ایک کے مطابق فاطمیہ کے دور حکومت میں حکمران قاہرہ کی گلیوں کو روشن کرنے کے لیے رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی لالٹینیں جلا دیتے ہیں اور یہ رسم آج بھی زندہ ہے۔ اب دور جدید میں مصر کی ان قدیم لالٹینوں کی جگہ چین کی جدید اور دلکش لالٹینوں نے لے لی ہے۔
مشرق وسطیٰ: مشرق وسطیٰ یمن کےعلاوہ اکثر ممالک جن میں سعودی عرب، بحرین، سوڈان، شام، مصر اور ترکی میں سحری کے اختتام اور افطاری کا اعلان توپ کے گولے چلا کر کیا جاتا ہے یہ توپ گولے نہیں پھینکتی بلکہ اس سے صرف آواز پیدا ہوتی جو روزے کے کھلنے اور بند ہونے کا اعلان ہوتا ہے۔ اس رسم کا آغاز فاطمید کے دور(909 سے 1171) میں ہوا جب کہ اس سے قبل لوگ اذان سے ہی روزہ کھولا کرتے تھے لیکن جب آبادیاں بڑھ گئیں اور دور تک اذان کی آواز سننا ممکن نہ رہا تو توپ کی آواز کا استعمال کیا جانے لگا تاہم اب کچھ ملکوں میں ٹیکنالوجی کی ترقی نے اس کی جگہ آواز کے بم نے لی ہے۔

BACK TO INDEX PAGE