BACK TO INDEX PAGE

کنجوسی کے مہلک اثرات سے رمضان کریم میں اپنے ہاتھ کو کشادہ رکھیے

رمضان المبارک میں بخل کی بری خصلت کو ترک کردیجیے ۔

بخل یعنی کنجوسی ایک ایسی ہلاکت خیز برائی ہے جس کی وجہ سے انسان اخلاقی برائیوں کے ایک وسیع سلسلے میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ بخل کے معنی یہ ہیں کہ جہاں مال کو خرچ کرنا ضروری ہو، وہاں اسے خرچ نہ کیا جائے اور اسے جمع رکھنے کی خواہش کو ہر ضرورت اور ہر استحقاق پر مقدم رکھا جائے۔ ظاہر ہے اس قسم کا جذبہ اگر نفس میں پیدا ہوجائے تو اس کے برے نتائج غیر محدود ہوں گے اور وہ بد اخلاقیوں اور برائیوں کا ایک مجموعہ بن جائے گا۔

اس طرح بخل کی بد ترین عادت انسان کو ظلم اور بے رحمی کی طرف راغب کرتی ہے، وہ اسے بے مروت بنا دیتی ہے۔ بدسلوکی اور پست اخلاقی سکھاتی ہے۔ لالچ، تنگ نظری، خیانت اور فریب کا سبق دیتی ہے۔ بخل کی خصلت چوں کہ بے دردی اور بے رحمی کے جذبات کی تخلیق کرتی ہے اس لیے اس کا بہت بڑا نقصان ایک فرد کے ساتھ ساتھ معاشرے کی تنظیم کو ہوتا ہے۔ یہ بد ترین صفت جس حد تک بھی پھیلے گی اسی حد تک قومی تنظیم اس سے متاثر ہوتی چلی جائے گی اور جن لوگوں میں یا جس قوم میں یہ بری عادت موجود ہوگی وہ کبھی ترقی کی راہ پر نہیں چل سکتی اور اس میں کسی وقت بھی اجتماعی زندگی کی روح پیدا نہیں ہوسکتی۔

اسلام نے اس برائی کو روکنے کی سخت تاکید کی ہے اس سلسلے میں قرآن حکیم کے ارشادات، حدیث نبویؐ اور عمل اصحابؓ اور اہل بیت اطہارؓ ہمارے لیے بہترین مثال ہیں۔ قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے سورۂ آل عمران آیت 180 ترجمہ: جن لوگوں کو اﷲ نے اپنے فضل و کرم سے کچھ عطا فرمایا ہے اور پھر وہ بخل کرتے ہیں وہ ہرگز اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ عمل ان کے لیے بہتر ہوگا بلکہ یہ ان کے حق میں بہت برا ہے جس مال میں وہ بخل کرتے ہیں عنقریب قیامت کے دن اس کا طوق بناکر ان کے گلے میں ڈالا جائے گا۔

سورۂ حدید میں ارشاد ہوتا ہے، ترجمہ: اور اﷲ کسی اترانے والے اور شیخی باز کو دوست نہیں رکھتا جو خود کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کرنے کی تاکید کرتے ہیں

اسی طرح سورۂ لیل میں فرمایا ہے جس نے بخل کیا اور بے پروائی کی اور اچھی بات کو جھٹلایا تو ہم اسے سختی یعنی جہنم میں پہنچا دیں گے اور جب وہ ہلاک ہوگا تو اس کا مال اس کے کچھ بھی کام نہ آئے گا

بخیل آدمی کو کبھی زندگی میں کوئی لذت حاصل نہیں ہوتی اور وہ ہمیشہ مشکلات اور مصیبتوں کا شکار رہتا ہے۔ ایک طرف بخل کی بری عادت اسے اپنا پیسہ کسی کام میں خرچ نہیں کرنے دیتی اس لیے وہ انفرادی مصائب میں مبتلا رہتا ہے اور دوسری طرف وہ چوں کہ دوسروں کا شریک حال نہیں ہوتا اس لیے دوسرے بھی فطری طور پر اس کی کوئی مدد نہیں کرتے۔ اس کے نتیجے میں وہ ہمیشہ انفرادی اور اجتماعی مصائب اور تکلیفوں میں مبتلا رہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ دولت جمع رکھنے کی ہوس اور فکر میں اپنے سارے فرائض کو بھول جاتا ہے۔

اسلام نے ہر مسلمان کو اس کی تعلیم دی ہے کہ وہ بخل کی عادت کو کبھی اختیار نہ کرے اور مستحق ضرورت مند لوگوں کی ہر ممکن مالی و اخلاقی مدد کرنے میں کسی وقت بھی دریغ نہ کرے، محتاجوں اور غریبوں کی حاجتوں کو پورا کرے اور ہر طرح سے خیرات کرنے اور خدا کی راہ میں مال و دولت صرف کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

حضرت ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ نے پیغمبر اکرم ﷺ کی کچھ صفات ایک موقع پر بیان فرمائی ہیںکہ: یارسول اﷲ ﷺ آپ قرابت داروں کا حق اور مقروض لوگوں کا قرضہ ادا کرتے ہیں، غریبوں کو سرمایہ دیتے ہیں، مہمانوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور جن پر مصیبت پڑتی ہے ان کی مدد فرماتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اﷲ آپ کی مدد نہ کرے۔

کنجوسی اور بخل ایک ایسی بیماری ہے جو خدا کے وجود اور آخرت پر سچا اعتقاد نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے کہ جو جزا و سزا پر ایمان نہیں رکھتا اور اس کو اس کا یقین نہیں ہوتا کہ اﷲ کی بارگاہ سے اسے اس کے اعمال کی جزا عطا ہوگی وہ اپنی اسی دنیاوی کمائی کو سب کچھ سمجھتا ہے۔

اور اسی وجہ سے وہ اپنی دولت کو آسانی کے ساتھ دوسرے کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ سورۂ مدثر میں دوزخیوں کے سوال و جواب کا ذکر ہے۔ ترجمہ: ان سے پوچھا جائے گا کہ تم جہنم میں کیوں ڈالے گئے ہو تو وہ جواب دیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے، اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے، حق کے مخالفوں کے ساتھ مل کر ہم بھی دین حق پر اعتراض کیا کرتے تھے اور یہ اس وجہ سے تھا کہ ہم اپنے اعمال کی جزا اور سزا کے دن پر یقین نہیں رکھتے تھے۔

ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بخل کی کریہہ برائی جہنم کی آگ تک پہنچائے بغیر نہیں رہتی اور اس کا بنیادی سبب صرف یہ ہے کہ انسان کو عمل کی جزا اور سزا پر اعتقاد نہیں ہوتا اور وہ اس حقیقت پر ایمان نہیں رکھتا کہ آخرت بھی کوئی حقیقت ہے اور وہاں کی نعمتوں کے مقابلے میں اس دنیا کی فانی اور تھوڑی سی راحت اور دولت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ اس بحث کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کوئی فیاضی بھی خدا کے نزدیک قبول نہ ہوگی کیوں کہ اﷲ کی بارگاہ میں خیرات اور فیاضی کی بڑی شرط یہی ہے کہ خرچ کرنے والا اس پر ایمان بھی رکھتا ہو کہ اسے اس نیک عمل کی جزا ملے گی اور خدا کی بارگاہ میں اس کا یہ عمل بیکار نہ ہوگا، بشرطیکہ اس میں پورا خلوص موجود ہو۔

بخیل آدمی اس حقیقت سے بے خبر ہوتا ہے کہ روپیہ پیسہ اپنے مقام پر خود کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ذاتی طور پر مقصود ہو بلکہ اسے صرف اس لیے حاصل کیا جاتا ہے کہ وہ دوسری چیزوں کے حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

اس لیے جب تک اسے خرچ نہ کیا جائے گا اس وقت تک جو انسان کے اصل مقاصد ہیں کسی طرح بھی حاصل نہیں ہوسکتے اور یہ ظاہر ہے کہ ان اغراض میں اعلیٰ ترین مقاصد و اغراض وہی ہوسکتے ہیں جو اﷲ نے اپنے پیغمبرؐ کے ذریعے سے ہم کو تعلیم دیے ہیں اور جن کا فائدہ اس دنیا میں بھی ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حاصل ہوتا ہے اور آخرت میں بھی جو کچھ اس کا فائدہ ہوگا وہ ہمیں حاصل ہوگا۔ اﷲ اور رسول اکرمؐ کو ہماری فیاضی سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے جو کچھ اس میں نفع ہے وہ ہمارا ہی ہے اور ہمارے ہی فائدہ اور ہمارے ہی نفع کے لیے ہم کو یہ سب ہدایتیں کی جاتی ہیں۔

رمضان المبارک میں بخل کی بری خصلت کو ترک کردیجیے، اپنا ہاتھ ناداروں، مساکین اور محرومین کے لیے کشادہ رکھیے۔ یقین جانیے اﷲ آپ کے رزق کی کشادگی میں مزید اضافہ فرمائے گا۔

 

BACK TO INDEX PAGE