BACK TO INDEX PAGE 


بسم اللہ الر حمٰن الرحیم

رمضان المبارک کا آخری عشرہ

بہتر ہے کہ رمضان کے آخری عشرے میں مستعدی سے عبادت کرے،راتوں کو جاگے اور اپنے اہل وعیال کو بھی جگائے ۔

کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذا دخل العشرشدّمئز رہ داحیا لیلۃ والیقظ اھلہ

(صحیح بخاری کتاب الصوم باب العمل فی العشرالا واخر من شھر رمضان جز اول ص 480)۔

کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یجتھدفی العشرالاولا واخر یجتھد فی غیرہ

(صحیح مسلم کتاب الاعتکاف باب الاجتہاد فی العشر الاواخر من شھر رمضان جز اول 480)۔




لیلۃ القدر

لیلۃ القدر میں قیام کر نے کا بہت ثواب ہے۔لیلۃ القدر میں ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کرنے سے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من قام لیلة القدر ایمانا و احتسابا غفرلہ ماتقدم من ذنبہ

(صحیح بخاری کتاب الصوم باب فضل لیلة القدر جز ء 3 ص59 و صحیح مسلم کتاب الصلوٰة باب الترغیب فی قیام رمضان جزء اول ص 305)۔




لیلۃ القدر کو رمضان کی آخری طاق راتوں میں تلاش کرے یعنی رمضان کی اکیسویں ، تیئسویں، پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں رات کو قیام کرے۔

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تحروالیلة القدرفی الوترمن العشر الا واخر من رمضان (صحیح بخاری کتاب الصوم باب تحری الیلة القدرفی الوتر جزء 3 ص 60وروی مسلم نحوہ فی صحیحہ فی کتاب الصیام باب فضل لیلة القدر جزء اول ص475 وص 476)۔



لیلۃ القدر میں مندرجہ ذیل دعاء مانگے۔

اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ

ترجمعہ :اے اﷲ بے شک تو معاف کرنے والا ہے،

معافی کو پسند فرماتاہے لہٰذا مجھے معاف فرمادے۔

عن عائشۃ قالت قلت یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أرأیت ان علمت ای الیلۃ لیلۃ القدر ما اقول فیھا قال قولی اللھم انک عفو تحب العفوفاعف عنی

(رواہ الترمذی فی آخر ابواب الدعوات جز2ص516و سندہ صحیح التعلیقات )




اعتکاف

اصطلاح شرع میں اعتکاف کے معنٰی عبادت کی نیت سے مسجد میں رہنا اور اس میں سے نہ نکلنا۔

اعتکاف مسجد میں کرے۔

قال اللّٰہ تبارک وتعالیٰ وانتم عاکفون فی المساجد

(البقرۃ ۔187)


عورتیں بھی مسجد میں اعتکاف کریں۔

عن عائشۃ الصدیقۃ قالت کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یعتکف ۔۔۔فکنت اضرب لہ خباء فیصلی الصبح ثم ید خلہ فا ستاُذنت حفصۃ عائشۃ ان تضرب خباء فا ذنت لھا فضربت خباء

(صحیح بخاری کتاب الاعتکاف باب اعتکاف النسآ ء جز س3 ص 63)

اعتکف مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم امرأۃ من ازواجہ

(صحیح بخاری کتب الاعتکاف باب اعتکاف المستحاضۃجز 3 ص 64)

عن عائشۃ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ذکر ان یعتکف العشر الاواخر من رمضان فاستاذ نتہ عائشہ فاذن لھا وسالت حفصۃ عائشۃ ان تستاُذن لھا ففعلت

(صحیح بخاری کتاب الصوم باب من ارادان یعتکف ثم بدالہ ان یخرج جز 3 ص 67)




اعتکاف رمضان کے آخری عشرہ میں کرے۔

ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یعتکف العشر الاواخر من رمضان حتی توفا ہ اللّٰہ ثم اعتکف ازواجہ من بعدہ

(صحیح بخاری کتاب باب الاعتکاف فی العشر الاوخر صحیح مسلم کتاب الاعتکاف باب اعتکاف العشر الاواخر من رمضان جز اول ص 479)


ہر مرد اور عورت کے لیئے مسجد میں علیٰحدہ علیٰحدہ خیمے لگائے جائیں۔

ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ارادان یعتکف ۔۔۔۔اذا اخبیۃ خبا ۔ عائشۃ وخباء حفصۃ وخباء زینب

(صحیح بخاری کتاب الاعتکاف باب الاخبیۃ فی المسجد جزء3ص63وروی مسلم فی صحیحہ نحوہ فی کتاب الاعتکاف باب متی ید خل من ارادالاعتکاف فی معتکفہ جزء اول ص480)



ایک دوسرے پرفخر کرنے یا غیرت کرنے کی نیت سے اعتکاف نہ کرے بلکہ صرف اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی ورضاء کی خاطر اعتکاف کرے۔

کان رسول اللّٰہ صلٰی اللّٰہ علیہ وسلم اذا صلی انصرف الی بناۂ فبصر بالا بنیۃ فقال ماھذاقالو بناء عائشہ وحفصۃ وزینب فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آلبراردن بھذاماانا بمعتکف (صحیح بخاری کتاب الاعتکاف باب من ارادان یعتکف ثمبدالہ ان یخرج جزء3 ص67وروی مسلم نحوہ فی صحیحہ فی کتاب الا عتکاف باب متی ید خل من ارادالاعتکاف فی معتکفہن جزء3 ص480)



اعتکاف کی جگہ میں صبح کی نماز کے بعد داخل ہو۔

(یعنی اکیسویں شب خیمہ کے باہر گزارے ﴾

عن عائشہ کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یعتکف۔۔۔۔۔۔۔فکنت اضرب لہ خباء فیصلیٰ الصبح ثم یدخلہ (صحیح بخاری کتاب الاعتکاف باب اعتکاف النسائجز3ص63)

کان رسول اللّٰہ صلٰی اللّٰہ علیہ وسلم اذاارادان یعتکف صلی الفجر ثم دخل معتکفہ

(صحیح مسلم کتاب الاعتکاف بابمتی یدخل من اراداالاعتکاف فی معتکفہ جزاول ص480)



اعتکاف کی حالت میں بیوی کے پاس نہ آئے جائے۔

قال اللّٰہ عزوجلوَلَاتُبَاشِرُوْھُنَّ وَاَنْتُمْ عَاکِفُوْنَ فِی الْمَسَاجِدِ (البقرہ۔187).



اعتکاف کی حالت میں صرف قضا ئے حاجت کے لیئے گھر جاسکتا ہے۔

کان(رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم)لاید خل البیت الالحاجۃ اذاکان معتکفا

(صحیح بخاری کتاب الاعتکاف باب لا ید خل البیت الالحاجۃ جزء3ص63)




حالت اعتکاف میں اگر مرد مسجد کے اندر رہتے ہوئے سر کو اپنے گھر کے اندر کردے تو اسکی بیوی اسکا سر دھو سکتی ہے اور اسکے سر میں کنگھی کر سکتی ہے اگر چہ وہ اذیت ماہانہ میں ہو۔

عن عائشۃ االصدیقہ الطاہرہ المطھرہ قالت کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یصغی الّی راْسہ وھو مجاورفی المسجد فارجلہ وانا حائض

(صحیح بخاری کتاب الاعتکاف باب الحائض تر جل المعتکف وباب غسل المعتکف جز اول ص62و ص63)



اعتکاف کرنے والے سے اس کی بیوی مسجد میں آکر مل سکتی ہے۔جب وہ واپس جائے تو اعتکاف کرنے والا اسے چھوڑنے جاسکتاہے۔

عن علی بن الحسین ان صفیۃ زوج النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اخبرتہ انھاجاء ت رسول اللّٰہ صلی علیہ وسلم تزترہ فی اعتکافہ فی المسجد فی العشر الاواخر من رمضان فتحدثت عندہ ساعۃ ثم قامت تنقلب فقم النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلممعھا یقلبھا وفی روایہ قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا قعجلی حتی انصرف معک وکان بیتھا فی داراسامۃ

(صحیح بخاری کتاب الاعتکاف باب ھل یخرج المعتکف لحوائبحہ الی باب المسجد و باب زیارۃ زوجھانی اعتکافۃ جز3ص64وص65)



اگر رمضان المبارک کے آخری دو عشروں میں اعتکاف کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔

فلما کان العام الذی قبض فیہ اعتکف عشرین یوما

(صحیح بخاری کتاب الاعتکاف فی العشر الا وسط سن رمضان جز ء3ص67)




اگر کوئی عورت مرض استحاضہ میں مبتلا ہو تو وہ اعتکاف کرسکتی ہے۔اگر ضرورت ہو تو اس کے نیچے طشت وغیرہ رکھ دینا چاہئے(تاکہ خون نہ بہے)۔

عن عائشۃ الصدیقہؓ قالت اعتکف مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم امراۃ من ازواجہ مستحاضۃ فکانت تری الحمرہ والصفرہ فر جما وضعنا الطست تحتھا دھی تصلی

(صحیح بخاری کتاب الاعتکاف باب اعتکاف المستحا ضۃ جزء3ص64)


BACK TO INDEX PAGE