BACK TO INDEX PAGE

 یہ بھوک پیاس، مشقت کس لیے؟

انسان کو شرفِ انسانیت محض اِس تقویٰ کی بنا پر ملا ہے اور یہی تقویٰ تمام عبادات کا سبب بھی ہے۔

ہمارے معاشرے میں عبادات عموماََ ایک رسم و روایت کے طور پر ادا کی جاتی ہیں۔ ان عبادات کے بجا لانے والوں کی اکثریت اس بات پر غور نہیں کرتی کہ ان عبادات کا مقصد کیا ہے؟ ان میں کیا حکمتیں اور مصلحتیں پوشیدہ ہیں۔ اگر ہم ان عبادات کے مقاصد اور فوائد کو جان لیں تو یہ ایک رسم و روایت سے بڑھ کر ہمارا ذوق بن جائیں، اس طرح ہم عبادت کا صحیح لطف اُٹھا سکتے ہیں۔ رمضان المبارک کا ہماری زندگیوں میں ایک بار پھر آنا ہماری خوش نصیبی ہے۔

ویسے تو سال کے 12 مہینے ہی نیکیوں کے ہوتے ہیں لیکن رمضان المبارک کو نیکیوں کا موسم بہار کہتے ہیں۔ اس ماہ میں کی جانے والی ہر نیکی ایک خاص امتیاز رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس کے نیک عمل کا بدلہ 70 گناہ اضافی دیتے ہیں۔ اس مہینے میں کی جانے والی سب سے بڑی نیکی روزہ ہے۔ روزے کی اہمیت جاننے کے لئے تین باتوں کا علم ضروری ہے۔ روزہ کیا ہے؟ کیوں ہے؟ اور کب سے ہے؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا

اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کردئیے گئے ہیں جس طرح تم سب سے قبل لوگوں پر فرض کئے گئے، تاکہ تم متقی بن جاؤ

اگر قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ پر غور کیا جائے تو ہمیں تینوں باتوں کے جوابات مل جائیں گے۔ روزے کو عربی میں صوم کہا گیا ہے جس کے معنیرکنا ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد احادیث ایسی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ روزے کا مطلب رکنا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ میں روزے کے اصطلاحی معنی ایک ایسا عمل جس میں صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے، مباشرت سے رکے رہنا روزہ کہلائے گا۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے حلال قرار دی ہیں لیکن روزے میں ان سے باز رہنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ جملہ قسم کی بد اعمالیاں تو بحیثیت مسلمان روزے اور غیر روزے دونوں حالتوں میں ان سے اجتناب ضروری ہے۔ اگر کوئی روزہ دار ان کاموں سے نہیں رکتا تو اس کا روزہ شرعاََ ہے نہ لفظاََ۔

اس تفصیل سے اندازہ ہوگیا ہوگا کہ روزہ کیوں ہے؟ اس بات کا جواب ہمیں مذکورہ بالا آیات کے آخر میں مل رہا ہے تاکہ تم متقی بن جاو۔ تقویٰ کا مطلب ہے بچنا، کسی بھی نیک عمل کے اَجر و ثواب ضائع ہونے کے ڈر سے اسے ترک کرنے سے بچنا اور کسی بھی بُرے اور ممنوع کام پر ملنے والی سزا کے ڈر سے اسے کرنے سے بچنا۔

انسان کو شرفِ انسانیت محض اِس تقویٰ کی بنا پر ملا ہے اور یہی تقویٰ تمام عبادات کا سبب بھی ہے اور ان عبادات کا حاصل بھی ورنہ ہوش حواس میں ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت کے بعد حق بندگی ادا نہ کرنے والوں کو قرآن مجید نے جانوروں سے بھی بدتر کہا ہے۔ اس لئے شرف انسانی کے لئے تقویٰ کا جوہر ضروری ہے اورتقویٰ عبادت سے حاصل ہوتا ہے۔ روزہ بھی حصول تقویٰ کا ذریعہ ہے جس سے ثابت ہوا کہ روزہ بھی ایک عبادت ہے اور اگر روزہ عبادت ہے تو انسانیت کی تخلیق کا مقصد ہی عبادت الٰہی ہے۔ لہٰذااس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب سے انسان ہے تب سے روزہ ہے۔ قرآن مجید میں اس بات کا تذکرہ ایسے ہے کہ جیسے تم قبل لوگوں پر فرض کئے گئے۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پہلے کی اُمتوں میں بھی روزہ حصولِ تقویٰ کا ذریعہ رہا ہے۔ یہ ایک باطنی عبادت ہے یعنی اگر کوئی انسان دوسرے انسان سے ملے اس کے ظاہر کو دیکھ کر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ روزے سے ہے یا نہیں، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے روزے کو اپنی مخصوص عبادت قرار دیتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا، مطلب یہ کہ باقی اعمال کا أجر فرشتے لکھتے ہیں لیکن اس عبادت کا أجر اللہ تعالیٰ رب العلمین خود مختص کرتے ہیں۔

ماہ رمضان کے روزے چند دن کے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزے کا مقصد تمہیں کسی دشواری میں مبتلا کرنا نہیں بلکہ اس عملِ صالح کے ذریعے تمہارے لئے دین و دنیا میں آسانیاں پیدا کرنا مقصود ہے۔ گنتی کے چند دنوں سے مراد یہ ہے کہ روزے کے تمام معاملات وہی ہونگے جو شریعت نے ہم پر لاگو کردیئے ہیں۔ انسان اگر ماہ رمضان کے روزے جو فرض ہیں ان کی تعداد میں کمی پیشی نہیں کرسکتا تو اُس کے قواعد و ضوابط اور احکام میں کیوںکر من مانی کی جاسکتی ہے۔ ہاں جن معاملات میں شریعت نے روزے کے بارے میں جو رخصت دی ہے وہ رخصت ہمارے لئے قبول کرنا ضروری ہے اور یہ ہماری آسانی کے لئے ہے۔

روزہ اخلاقی لحاظ سے تربیت و تزکیہ کا ایک بہترین عمل ہے، ماہ رمضان کی تربیتی ورکشاپ میں یہ سبق سکھایا جاتا ہے کہ حلال و حرام میں تمیز اور خواہش نفس کو قابو کرنا کیسے ممکن ہے۔ پھر اِس تربیت کا اثر دیگر گیارہ ماہ بھی پر رہتا ہے، بشرطیکہ ٹریننگ کے دوران تمام قوائد و ضوابط پر صحیح طرح عمل کیا گیا ہو، جسمانی لحاظ سے روزہ بھوک، پیاس کو برداشت کرنے کا سبق دیتا ہے جس سے کسی مشکل کی صورت میں اس کو جھیلنے کی ہمت کے علاوہ معدے اور جسمانی بیماریوں سے بچاو بھی ممکن ہوجاتا ہے۔ یہ عمل روح اور جسم کو آلودگیوں سے پاک کرکے نکھارتا ہے اور انسان کی زندگی کو اعتدال میں لاتا ہے، رب کی جنتوں کے حصول اور جہنم سے آزادی کا مؤثر ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو ایمان اور صحیح عقیدے کے ساتھ رمضان کے لیل و نہار سے فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے کیے گئے تمام اعمال صالحہ کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے۔

 

BACK TO INDEX PAGE