BACK TO INDEX PAGE 

 رمضان کریم
جسم کی زکوٰة نکالیں بیماریوں سے نجات پائیں۔۔۔۔ روزے کی حالت میں چوں کہ صبح تاشام کچھ کھانا پینا منع ہوتا ہے اسی لیے ہر روزے دار بھوک اور پیاس کی تکلیف سے بھی واقف ہوجاتا ہے۔ لیکن جسمانی طور پر جو فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں
ڈاکٹر یاسمین شیخ:
بلاشبہ رمضان کریم نہایت مبارک مہینہ ہے جو بے شمار جسمانی اور روحانی فوائد سے استفادے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ماہ میں ہر عاقل ،بالغ مسلمان مردوخواتین پر روزے فرض کیے گیے ہیں۔ روزے کی حالت میں چوں کہ صبح تاشام کچھ کھانا پینا منع ہوتا ہے اسی لیے ہر روزے دار بھوک اور پیاس کی تکلیف سے بھی واقف ہوجاتا ہے۔ لیکن جسمانی طور پر جو فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں عام طور پر انہیں ہمارے یہاں جس طرح نظرانداز کیا جاتا ہے وہ قابل افسوس ہے۔جیسا کہ رمضان کا چاند نظر آنے سے قبل ہی تمام مٹھائی کی دکانوں پر کھجلہ پھینی بڑے بڑے ٹوکروں میں سجی دل لبھانے لگتی ہے۔ جوں ہی چاند نظر آتا ہے لوگ دودھ اور دہی کی دکانوں پر اس طرح لپکتے ہیں ،گویا اب شاید کبھی بھی یہ نعمتیں نصیب نہ ہوں گی۔ صرف ایک دن کی سحری میں بعض افراد اتنا کچھ کھاپی جاتے ہیں کہ اگر الگ سے کلوریز کا چارٹ بنا کر حساب لگایا جائے تو یہ مینیو دوروزے کے کھانے کے برابر ہوگا۔ دستر خوان پر بہت اہتمام سے پراٹھے، آملیٹ، بھنا ہوا گوشت ،حلوہ ،فیرنی، سویاں، کھجلہ پھینی،دودھ اور جلیبی وغیرہ سجائے جاتے ہیں۔ اب یہ کھانے والے پر مخصر ہے کہ وہ ان کہ تمام پکوانوں سے کتنا انصاف کرتا ہے ۔ بعض افراد تمام اشیاء کھانے کے بعد کم ازکم چار گلاس پانی پیتے ہیں اور پھر ایک کپ چائے اس وقت بہ مشکل ختم کر پاتے ہیں،جب اذان ہورہی ہوتی ہے۔ اور عموما اس قدر کھا کر نہ صرف ان کا پیٹ تن جاتا ہے بلکہ چلنا پھرنا بھی دشوار محسوس ہونے لگتا ہے۔ اور جب دن چڑھتا ہے تو اتنا مقوی کھاناکھانے کے بعد اصولا تو جسم میں طاقت محسوس ہونی چاہیے مگر چوں کہ ذہن میں روزے کا احساس غالب ہوتا ہے اس لیے لامحالہ چال ست اور چہرہ کم زور لگنے لگتا ہے۔ اور پھر یہی کہا جاتا ہے کہ روزہ برداشت نہیں ہورہا ۔ اور تو اور دن بھر نہایت سکون سے کام کاج کے بعد تقریبأٴ دوپہر دوبجے ہی افطار کی فکر لگ جاتی ہے اور طرح طرح کے لوازمات کی جن میں سموسے، پکوڑے،دہی،بڑے چھولے، پانی پوری،آلوبھری پوری رول،شامی کباب، کٹلس،تکے جلیبیاں،امرتی اور مختلف شربت وغیرہ شامل ہیں تیاری شروع ہوجاتی ہے۔ مغرب تک یہ تمام مزے مزے کی اشیا میز پر بڑے اہتمام سے سج جاتی ہیں ۔ واضح رہے کہ افطار کے لیے سب سے اہم شے کھجور ہے جسے تیر کا ایک چھوٹی سی پلیٹ میں رکھ دیا جاتا ہے۔ حالاں کہ قدرت نے کھجور میں وہ تمام ضروری اجزا شامل کردیئے ہیں جن سے بہ آسانی ایک فرد چاق وچو بند ہوسکتا ہے۔ لیکن اب ہمارے یہاں کھجور سے کہیں زیادہ تلی ہوئی چٹ پٹی اشیا کو فوقیت دی جاتی ہے۔ گھر میں چاہے ایک یا دو فرد روزے دار ہوں ،مگر افطاری تو سب کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ وہ افراد جودن میں تین مرتبہ کھاتے تھے،افطار کے بعد وقفے وقفے سے کئی بار کھانے لگتے ہیں ۔ جب کہ افطار میں اس قدر کھانے پینے کے بعد بھی مغرب سے فجر تک چلتے پھرتے مزید بہت کچھ کھاپی لیا جاتا ہے۔ پھر تقریبأٴ دس بجے کے لگ بھگ رات کا کھانا بھی کھایا جاتا ہے۔ البتہ تمام افراد یہ کھانانہیں کھا پاتے کیوں کہ معدہ مزید دباؤ برداشت کرنے سے انکار کردیتا ہے۔ لیکن متعدد افراد رات کے کھانے میں بھی چپاتی،چاول دال ،سبزی اور گوشت کا سالن وغیرہ رغبت سے کھاتے ہیں جب کے بعض افراد تو وہی دسلاد کے ساتھ بریانی اور زردہ بھی کھا لیتے ہیں۔ زائد مقدار میں کھا کر پھر سحری کے لیے اسے ہضم کرنے کی فکر لگ جاتی ہے تو کچھ پیدل اور کچھ سواری پر گھر سے باہر نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ ادھر اٌدھر پھرتے پھراتے کسی نہ کسی دکان پر رک جاتے ہیں اور جہاں ایک بوتل پی کر ڈکار نا ضروری ہے۔ ڈاکارنے سے یہ تسلی ہوجاتی ہے کہ اب کھانا ہضم ہو جائے گا اور طبیعت بھی ہلکی ہوگی۔ ہاں اگر وہاں آئس کریم پر نظر پڑگئی تو وہ بھی کھالی۔ سب سے آخر میں پان والے کی جانب متوجہ ہوئے تو کوئی خوشبودار کوئی سادہ کوئی میٹھا پان بنوا کر منہ میں دبا لیتا ہے اور بچے ساتھ ہوں تو وہ بھی دیکھا دیکھی رنگ بہ رنگی چھالیا سونف سپاری کے پیکٹ منہ کھول کر انڈیل لیتے ہیں اس بات کی پرواہی نہیں ہوتی کہ کہیں بھرے پیٹ کے ساتھ یہ سانس کی نالی میں گھس کر جان ہی نہ لے لے۔
اتنا زیادہ کھالینے کے بعد تھوڑی بہت ونڈوشاپنگ بھی ضروری ہے۔ پھر گھومتے پھرتے گھر کی جانب واپس آکر پھل کا دور بھی لازم ہے۔ اس طرح چند گھنٹے آرام کے بعد پھر سحری کے لیے بیداری۔ اور اب تو سحر کے اوقات میں بھی بازاروں میں جگہ جگہ پراٹھے بننے لگتے ہیں۔ نیز ساتھ دودھ دہی وغیرہ کی دکانوں پر بھی خرایدروں کارش بڑھنے لگا ہے۔ اس کھانے پینے کی فروانی میں وہ خواتین سخت آزمائش میں پڑ جاتی ہیں جنہیں ذیابطیس یابلند فشار خون کا عارضہ لاحق ہے۔ اگرچہ ان کا دل کئی لو ازمات کھانے کو چاہ رہا ہوتا ہے ،مگر دل پر پتھر رکھ کر سادہ چیزوں پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس بعض بچے اپنے والدین کو مارے محبت کے خوب مرغن اور میٹھی اشیاء یہ کہہ کر کھلاتے رہتے ہیں کہ کھالیں رمضان سال میں ایک بار ہی تو آتا ہے خدانہ خواستہ کچھ ہوگیا تو دوا کھا لیجیے گا۔ مگر اس محبت سے عموما رات والدین کے ساتھ ہسپتال میں گزارنی پڑ جاتی ہے۔ بس یہی مناظر پورا رمضان جابہ جاد کھائی دیتے رہتے ہیں۔ لیکن کئی افراد دو بار مقوی سحری کھا کر بے فکر ہو کر دن چڑھے تک سوتے رہتے ہیں۔ چوں کہ ہر گھر میں دستر خوان پر تلی ہوئی اشیاء مثلأٴ سموسے، پکوڑے وغیرہ ہونا لازم ہوچکا ہے اور پھر شربت میٹھی چاٹ،فیرنی سویاں،کھجلہ پھینی وغیرہ کے لیے چینی کا زائد مقدار میں ڈالنا بھی ضروری ہے تو اس طرح بیک وقت چکنائی اور میٹھے کی خاصی زیادتی ہوجاتی ہے۔ واضح رہے کہ دونوں موٹا پے کے اہم عنصر ہیں۔ اور رمضان میں ان کی خاصی مقدار غیر محسوس طریقے سے جسم میں داخل ہوجاتی ہے۔ کھانے والا یہ سوچ کر دل مطمٴن کر لیتا ہے کہ چوں کہ دن بھر کھائے پیے بغیر رہے ہیں اس لیے حساب برابر ہو جائے گا۔ یاد رکھے حساب عملأٴتب برابر ہوتا ہے جب اتنے پیدا شدہ حرارے مشقت کر کے خرچ بھی کیے جائیں۔ واضح رہے کہ رمضان میں مشقت بھی عام دنوں کی نسبت ذراکم ہوجاتی ہے۔ کیوں کہ دفاتر اور اسکولز کی چھٹی معمول سے ہٹ کر ذرا جلدی ہوجاتی ہے۔ چوں کہ سحری میں اٹھتے ہیں اسی لیے متعددافراد نقاہت کا تصور کرتے ہی ایک بجے جو بستر پر گرتے ہیں،تو صرف نماز کی خاطر طوعاوکرھا اٹھایا جائے ،تو اٹھ گئے ورنہ مغرب سے ذراقبل اس وقت اٹھتے ہیں جب میزانواع واقسام کی نعمت خداوندی سے سج چکی ہو اور اذان ہونے میں چند گھڑیاں ہی باقی ہوں۔ کئی افراد رمضان سے قبل کم زور ہوتے ہیں مگر رمضان کے گزرتے ہی عید کے بعد جب مختلف تکالیف کے ساتھ معالج سے رابطہ کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ مختلف امراض کے ساتھ کئی کلووزن بھی بڑھ گیا ہے۔ رمضان میں چکنائیوں کااستعمال عموما بڑھ جاتا ہے جب کہ یہ عمل درست نہیں ہے۔ کیوں کہ چکنی اشیاء کے استعمال سے ہماری آنتیں اور نطام ہاضم متاثر ہوتا ہے اور پھر یہ بہت سے ہضم ہوتی ہیں۔
یادرکھے رمضان میں صحت برقرار رکھنے کے لیے متوازن غذا کا ستعمال ناگزیر ہے۔ اور متوازن غذا وہ کہلاتی ہے جس میں ہر کھانے میں ضرورت کے مطابق نشاستہ،پروٹین ،چکنائیوں کے علاوہ معدنیات اور پانی مناسب مقدار میں شامل ہو ۔ عام طور پر ہوتا ہے کہ اگر ان افراد نے اپنے کپڑے رمضان سے قبل سلوائے ہیں تو وہ عید پر تنگ ہو جاتے ہیں اور صلواتیں درزی کو سنائی جاتی ہیں کہ رش کے باعث سوٹ خراب کردیا۔ اس کے برعکس بعض افراد رمضان میں بھی اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ وہ نہایت نپی تلی سادی غذا لیتے ہیں جن میں پھل تازہ جوسز وغیرہ شامل ہوتے ہیں ۔ نیز کھجور سے افطار کرنے پر اکتفا کرتے ہیں ۔ بعد نماز مغرب سادہ کھانا جو چپاتی ،ابلے چاول،سبزی،دال یا گوشت کا سالن بمعہ دہی دلاد وغیرہ شوق اور اطمینان سے چبا چبا کر کھاتے ہیں۔ اس کھانے میں انہیں جولذت ملتی ہے اس پر پروردگار کا شکر ادا کرتے ہیں اور پانی پی کر رات کا کھانا ختم کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد ترواتح یا عبادت میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ ضرورت کے تحت باہر بھی چہل قدمی کر لیتے ہیں لیکن طبیعت ہلکی رہتی ہے ۔ رات کو جلد سوجاتے ہیں اور سحری کے وقت تازہ دم اٹھ کر جو کھانا میسر ہوتا ہے خوش دلی سے کھا لیتے ہیں مگر ٹھونس کر حلق تک کھانا بھر نے سے حتی الامکان اجتناب برتتے ہیں۔ انہیں نہ نماز میں سستی محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی کام کاج میں۔ رمضان کے بعد بھی ان کا وزن نارمل ہی رہتا ہے۔ نیز کئی عوارض بہتر بھی ہوجاتے ہیں جن میں پیٹ کی بیماریوں ،جوڑوں کا درد ذیابطیس ،بلند فشار خون وغیرہ شامل ہیں۔ چوں کہ جسم کو کچھ وقت کے لیے غیر ضروری اشیا ہضم کرنے سے نجات مل جاتی ہے اور فاسدمادے بھی کم بنتے ہیں۔ اس لیے دل جگر معدے وغیرہ سب کو فائدہ پہنچتا ہے ۔ بالکل اسی طرح صحیح معنوں میں روزہ رکھنے اور نبھانے سے جسم بیماریوں سے پاک ہو جاتا ہے اور یہی اس کی زکوٰة ہے۔
رمضان کا مہینہ چوں کہ سال کے مختلف موسموں میں آتا ہے لہٰذا کچھ مسائل بھی اسی مناسبت سے دیکھنے میں آتے ہیں ۔ روزے میں چوں کہ پانی کی افادیت مسلم ہے۔ لہٰذا گرمیوں میں سحری سے قبل تھوڑا پانی پی لیا جائے اور کھانے کے بعد تھوڑی تھوڑی مقدار میں پانی ضرور پی لینا چاہیے کیوں کہ جسم سے پسینے کا اخراج ہوتا رہتا ہے۔ نیتجتأٴ پانی اور نمک کی مقدار کم ہونے سے گھبراہٹ ہوسکتی ہے۔ کوشش کریں کہ سوتی،گھلے اور ہلکے کپڑے پہنیں تاکہ گرمی کم گلے۔ لڑکے بلاوجہ دھوپ میں نہ پھریں۔ افطاری میں پھلوں کا رس،دودھ یا کوئی بھی مشروب وغیرہ استعمال کریں۔ تاہم بہت زیادہ مسالے دار اور مقوی غذا سے اجتناب کریں۔ کیوں کہ گرمیوں کی راتیں چھوٹی ہوتی ہیں ۔ تقریبأٴ سات بجے افطاری کو توتین بجے پھر سحری کی تیاری۔ گویا مشکل سے ساتھ گھنٹوں کا وقفہ آتا ہے۔ اور اس دوران چکنائی سے بھرپور غذا ہضم نہیں ہوپاتی لہٰذا سحری کے وقت بھوک کھل کر نہیں لگتی اور بے دلی سے چند نوالے کھانے پر طویل روزکا ٹنا مشکل ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ افطار سادہ ہو اور اس کے ساتھ ہی رات کا کھانا بھی کھالیں، تاکہ دن بھر کا خالی معدہ اپنا کام بہ خوبی انجام دسکے۔ البتہ سحری سادہ ضرور ہو لیکن پیٹ بھر کر کھائیں تا کہ دن بھر توانائی کااحساس رہے۔ واضح رہے کہ رات کے کھانے کے بعد یا سحری میں پھلوں کا استعمال کریں ۔ جب تلے ہوئے پکوان تیار کرنے کے لیے روزانہ نیا تیل استعمال کریں اور بار بار تلنے کی بجائے بچے ہوئے تیل کو سالن میں استعمال کر لینا مفید ہے۔ روزے کی حالت میں مارکیٹ جانے سے بھی گریز کریں۔ کوشش کریں کہ افطاری کے بعد خریداری وغیرہ کی جائے۔چوں کہ روزہ اللہ کی رضا مندی کے لیے رکھا جاتا ہے۔اس لیے اس کا اجر بھی وہ خود دیتا ہے۔اس بابرکت ماہ کی وجہ سے خواہ لوگ کتنی ہی بسیار خوری وبداحتیاطی کرلیں مجموعی طور پر صحت کے مسائل کم دیکھنے میں آتے ہیں۔

BACK TO INDEX PAGE