BACK TO INDEX PAGE 

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی نَبِیِّناَ مُحَمَّدْ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ اجْمَعِیْنَ۔أمَّا بَعْدُ:
روزہ کی تعریف :
 طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے ، ازدواجی تعلقات اور دیگر مفطرات سے رُکے رہنے کا نام روزہ ہے ۔
گویا روزہ کے تین رکن ہوئے :
1. نیت ، بغیر نیت کوئی عمل مقبول نہیں ہے ۔
2. رُکنا ، یعنی کھانے پینے اور روزہ کو توڑنے والی دیگر چیزوں سے ۔
3. وقت یعنی یہ نیت اور رُکنا طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کے وقت میں ہو ۔
روزے کی فرضیت:
رمضان المبارک کا روزہ شعبان ٢ھ میں فرض ہوا، روزہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم ُرکن ہے، جو شخص اس کی فرضیت کا انکار کرےوہ کافر ہے ، اگرتوبہ کرلےتو ٹھیک ورنہ اسے قتل کردیا جائیگااوربلاغسل وکفن ونمازِجنازہ مسلمانوں کی قبرستان سے دورکسی گڈھے میں دفن کردیاجائیگا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: " یَأیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلیَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ "" اے ایمان والو! تمہارے اوپر روزہ فرض کیاگیا جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا،تاکہ تم متقی(گناہوں سے بچنے والے)بنو" (البَقَرَہْ : ١٨٣)
اسی طرح حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ ایک آدمی نے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم سے سوال کیاکہ اے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم آپ مجھے بتائیے کہ اللہ نے میرے اوپر روزوں میں سے کون سے روزے فرض کئے ہیں؟تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ" ر مضان کے روزے،اس نے کہا کہ کیا میرے اوپراسکے علاوہ بھی روزے فرض ہیں؟تو آپ نے فرمایا کہ نہیں،مگر یہ کہ نفلی روزے رکھو" (بخاری،مسلم)
روزے کی فضیلت:

روزے کی فضیلت و اہمیت کا اندازہ لگانے کیلئے یہی کافی ہے کہ حدیثِ قدسی میں رسول صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا"کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:ابن آدم کا ہرعمل اسی کیلئے ہے ،مگر روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اسکا بدلہ دونگا...،،(بخاری :1894 ، مسلم :1151)
یہی وہ بابرکت مہینہ ہے جسکے اندر قُرآن مجید نازل ہوا ۔
اسی مہینہ کے اندر ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوںسے بہتر ہوتی ہے۔
اس رحمتوں اور برکتوں والے مہینے میں جنّت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔
شیا طین بیڑیوں میں جکڑ دئے جاتے ہیں۔
روزہ قیامت کے دن روزہ دارکیلئے شفارش کرے گا ۔
اسی طرح جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ریان نامی ایک دروازہ روزہ داروں کے لئے خاص ہے ،جس سے صرف روزہ دار ہی داخل ہونگے۔
کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اس با برکت مہینہ میں تلاوت ِقرآن ،ذکرِا لٰہی،قیام ِ لیل،صدقہ و خیرات اور دیگربھلائی کے کاموں کو انجام دیکر اپنے لئے بہترین زاد ِآخرت تیار کر لیتے ہیں اور کتنے بد قسمت ہیں وہ لوگ جو اس فیوض و برکات والے مہینہ کو لہو و لعب،فسق وفجور اور دیگر برائی کے کاموں میں گزار دیتے ہیں۔
روزہ کن پر فرض ہے :

روزہ ہر عاقل ، بالغ مسلمان پر پر فرض ہے ۔
روزہ کے شرائط :
روزہ رکھنے والا :مسلمان ہو ، عاقل ہو ، بالغ ہو ، مقیم ہو ، روزہ رکھنے پر قدرت حاصل ہو اور روزہ میں رکاوٹ بننے والے کسی بھی امر سے خالی ہو ۔
روزے کی نیت :
فرض روزوں کی نیت طلوع فجر سے پہلے کرنا ضروری ہے جیسا کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ :اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:"جس نےطلوع فجر سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اسکا روزہ نہیں"(ابوداؤد:2454،ترمذی)
البتہ نفلی روزے کی نیت زوال سے پہلے کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے بشرطیکہ آدمی نے طلوع فجر کے بعدسے کچھ کھایا پیا نہ ہو،جیسا کہ حضرت عائشہ کی روایت میں ہے کہ ایک روز میرے پاس اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم تشریف لائے اور فرمایا : "کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے" ہم نے کہا کہ کچھ نہیں ہے ،آپ نے کہا "پھر تو میرا روزہ ٹہرا "،پھر ایک روز آپ میرے یہاں تشریف لائے تو ہم نے کہا :حیس(حلوہ)تحفہ میں ملا ہے تو آپ نے فرمایا "مجھے دکھاؤ حالانکہ آج صبح ہم نے روزہ کی نیت کرلی تھی" ،پھر آپ نے تناول فرمایا ۔ (مسلم: 1154)
*معلوم ہونا چاہئے کہ نیت دل کے ارادے کا نام ہے ،زبان سے نیت کرنے کا ثبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہے ۔
سحری و افطاری:
سحری کھاناایک تاکیدی حکم اور باعث برکت ہے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے" سحری کھاؤ اسلئے کہ سحری کھانے میں برکت ہے" (بخاری ومسلم)
سحری تأخیر سے کھانا سنت ہے،لیکن اتنی تاخیر نہیں کہ فجر کا وقت داخل ہوجائے ، اس کے بر خلاف افطار میں جلدی کرنا سنت ہے جیسا کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے" لوگ جب تک افطار میں جلدی کرتے رہیں گے برابر بھلائی پر قائم رہیں گے " (بخاری ومسلم)
اسی طرح ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "میرے سب سے محبوب بندے وہ ہیں جو افطار میں جلدی کرتے ہیں "(ترمذی)
ُسنّت کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی تازہ کھجور سے افطار کرے، اگر تازہ کھجورمیسر نہ آئے تو عام کھجور سے افطار کرے اگرکھجور نہ ملے تو پانی سے افطار کر لے، افطار کے وقت یہ دعا سنت سے ثابت ہے: " ذَھَبَ الظَّمَأوَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَ ثَبَتَ اْلاجْرُ انْ شَاء اللّٰہُ " "پیاس ختم ہوئی، رگیں تر ہو گئیں اور روزے کااجر انشاء اللہ پکاّ ہوگیا "(أبوداؤد)
نمازِتراویح :
رمضان المبارک میں تراویح یا قیام کی بڑی فضیلت ہے جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلّم کا ارشاد ہے" جس نے رمضان میں ایمان و احتساب (ثواب کی نیت)سے قیام کیا،اسکے پچھلے سارے گناہ معاف کر دئے گئے "(بخاری ومسلم)
نمازِ تراویح کا وقت عشاء کے بعدسے شروع ہوتا ہے اور طلوع ِفجر تک رہتا ہے تراویح کی نماز وتر کے ساتھ گیارہ رکعت سنت سے ثابت ہے جیسا کہ حضرت ابو سلمہ نےایک بارحضرت عائشہ، رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ رمضان میں اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کی نماز (تراویح) کیسی ہوتی تھی ،تو انھوں نےجواب دیا :آپ رمضانہو یا غیر رمضان آپ صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ............. )(بخاری)
جن امورسے روزہ ٹوٹ جاتا ہے:
روزہ کو فاسد کرنےوالے امور دو(2) طرح کے ہیں :
جن امور سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور صرف قضا واجب ہوتی ہے
جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضا و کفارہ دونوں واجب ہوتے ہیں ۔
(1) وہ امو ر جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور صرف قضا واجب ہوتی ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
جان بوجھ کر کھا پی لینا ،البتہ بھول کر کھا پی لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے ۔
جان بوجھ کر قئے کرنا ،البتہ خود بخود قئے آ جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔
حیض و نفاس کا خون آجانا۔
جان بوجھ کر بیداری کی حالت میں منی خارج کرنا۔البتہ احتلام ہو جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
غذا بخش یا خون کا انجکشن لگوانا۔
(2)وہ امور جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور قضا وکفارہ دونوں واجب ہوتے ہیں وہ صرف ایک ہے یعنی حالت روزہ میں بیوی سے جماع کرنا روزے میں جماع کا کفارہ یہ ہے : ایک گردن آزاد کرے ، اگر گردن آزاد کرنا ممکن نہ ہو تو پے در پے دو ماہ کے روزے رکھے اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ۔
روزہ نہ رکھنے کی رخصت:
ایسا مریض جس کے لئے روزہ باعث ضرر ہو مریض اور مسافر کے لئے روزہ افطار کرنے کی اجازت ہے لیکن بعد میں قضا کرنی ہوگی اور اگر بحالت ِسفر یا بحالت ِمرض روزہ رکھ لیا تو روزہ ادا ہوجائے گا ۔
٭حیض و نفاس والی عورتیں افطار کریں گی اور بعد میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کریں گی ۔اگر مذکورہ حالت میں روزہ رکھ بھی لیا تو درست نہ ہوگا ۔واضح رہے کہ مذکورہ عورتوں پر فوت شدہ نمازوں کی قضا نہیں ہے۔
٭حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے البتہ بعد میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرنی ہوں گی۔
٭انتہائی ضعیف یا ایسا بیمار جسکی شفا یابی کی امید نہ ہو،ان کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے،البتہ یہ لوگ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں گے ،اور ان پر قضا نہیں ہے۔
اعتکاف:
رمضان المبارک کے آخری دس دنوں کی بڑی فضیلت ہے اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم ان دنوں میں شب بیداری کا خاص اہتمام کرتے تھے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رمضان کا آخری عشرہ داخل ہوتا تو اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم اپنی کمر کس لیتے اورشب بیداری کرتے اور اپنے اہل کو بیدار کرتے (بخاری ومسلم)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے ایک دوسری روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم اپنی حیابت مبارکہ کے آخری ایام تک رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف کرتےتھے ، پھر آپکے بعد آپکی بیویوں نے اعتکاف کیا۔(بخاری ومسلم)
٭جو شخص رمضان کے عشرئہ اخیر کا اعتکاف کرنا چاہتاہےاسے چاہئے کہ وہ اکیسویں رات کو غروب شمس سے پہلے مسجد میں داخل ہوجائے ۔
٭معتکف(اعتکاف کرنے والا) کیلئے جائز نہیں ہےکہ وہ کسی کی عیادت،یا جنازہ میں شرکت کیلئے جائے،یا بیوی سے ہم بستری کرے ،یا بشری ضرورتوں کے علاوہ مسجد سے باہر جائے۔
٭معتکف سے اسکی بیوی ملنے کیلئے آسکتی ہے جیسا کہ بخاری و مسلم کی روایت میں ہے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا آپ سے ملنے کیلئے آئیں اور آپ انکو مسجد کے دروازے تک چھوڑنے کیلئے گئے۔
شب ِقدر:
شبِ قدرکو اللہ تعالٰی نےبہت سے فضائل و خصائص سے نوازا ہے ، جیسے :
1- اس رات کی عبادت گذشتہ گناہوں کا کفارہ ہے، اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے "جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے شب ِقدر کاقیام کیا اسکے گذشتہ سارے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں "(بخاری ومسلم)
2- یہ بابرکت رات ہزار مہینوں سے بہتر ہوتی ہے ،
3- اس رات میں فرشتے اور جبرئیل امین زمین پرنازل ہوتے ہیں،
" إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ* وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ* لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ* تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ* سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ "" ہم نے اس( قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا * اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ * شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے * اس میں روح (الامین) اور فرشتے ہر کام کے (انتظام کے) لیے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں * یہ ( رات) طلوع صبح تک (امان اور) سلامتی ہے "
4- یہ رات سراسر سلامتی ہے اس میں شر کا کوئی پہلو نہیں ہے وغیرہ وغیرہ ۔
اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کی اس بابرکت رات کو آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرے جیسا کہ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے" لیلةالقدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو " (بخاری)
بڑا بد نصیب ہے وہ شخص جو اس بابرکت رات کی قدر نہ کرے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اس ماہ میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو اس کی برکت سے محروم رہا ہے وہ ہر قسم کے خیر سے محروم رہا (ابن ماجہ) اس رات میں یہ دعا کثرت سے پڑھنی چاہئے : " اَللَّھُمَّ ا نَّکَ عَفُوّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ " " یااللہ تومعاف کرنیوالاہے اورمعاف کرنا پسند کرتاہے لہذامجھے معاف فرما " (ترمذی)
صدقةالفطر:
صدقةالفطرہرآزاد،غلام،مرد،عورت،بالغ،نابالغ پرفرض ہے،اسکی فرضیت کا اصل مقصد روزے کو لغو اور فحش باتوں سے پاک کرنا، نیز محتاجوں کے کھانے کا اانتظام کرنا ہے۔اسکی مقدار ایک صاع غلہ ہے جو موجودہ وزن میں تقریبا ڈھائی کلو گرام کے برابر ہوتا ہے ۔اسکے نکالنے کاافضل وقت عید کے دن عید کی نماز سے پہلے ہے البتہ عید سے دو ایک دن پہلے بھی نکالا جاسکتا ہے جو شخص نماز عید کے بعد نکالے گااس کا صدقۂ فطر ادا نہ ہوگا بلکہ اس کا شمار عام صدقے میں ہو گا۔
صدقة الفطر گھر کا سر پرست تمام اہل خانہ کی طرف سے نکالے گا۔
نماز ِعیدین :عیدین کی نماز سنت مؤکدہ ہے ،اسکی مشروعیت ہجرت کے پہلے سال عمل میں آئی جیسا کہ حضرت انس سے روایت ہیکہ جب اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ لوگوں نے دو دن (نیروز و مہرجان)لہو و لعب کیلئے خاص کر رکھا ہے ، تو آپ نے فرمایا :اللہ نے تمہیں ان دو دنوں کے بدلے اس سے بہتر دن عطا کر دیا ہے ،عید الفطرو عید الاضحی۔(أبوداؤد نسائی )
نماز ِعیدین میں یہ امور مستحب ہیں:

(١)غسل کرنا
(٢)خوشبولگانا
(٣)اچھے کپڑے زیب تن کرنا
(٤)عید الفطر میں عید گاہ جانے سے پہلے طاق کھجوریں کھانا اور عید الضٰحی میں عید گاہ سے واپس آنے کے بعد قربانی کرکے اس کا گوشت کھانا
(٥)عید گاہ جاتے اور آتے وقت راستہ بدلنا
(٦)عید گاہ جاتے وقت کثرت سے تکبیریں پڑھنا تکبیر کے صیغے یہ ہیں : '' اللہ اَکبَر اللہ اَکبَر لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ وَاللہ اَکبَر اللہ اَکبَر وَلِلّٰہِ الحَمدُ''
(٧)نماز ِعیدین بستی سے باہر ادا کرنا ، البتہ کسی عذرکی بنیاد پر مسجد میں پڑھی جائے
(٨)عید الفطر کی نماز عید الاضحی کے مقابلے میں قدرے تاخیر سے ادا کرنا۔
٭نماز عید کا وقت سورج کے دو نیزہ (تین میٹر )کے مقدار بلندہونے سے شروع ہو کر زوال تک (دوپہر) رہتا ہے۔
اللہ رب العالمین ہمیں اپنے سچے دین اور صحیح عقیدے پر قائم رکھے اور ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو معاف فرمائے۔

BACK TO INDEX PAGE