BACK TO INDEX PAGE  

زبان ایک عظیم نعمت ہے اور زبان سے ایمان کا اقرار کرنا ایمان کی بڑی علامت ہے۔

ہر بندہ مسلم کو اپنی زبان کے سلسلے میں توجہ دینا بے حد ضروری ہے، اور زبان کو شریعت کی لگام ڈالنا چاہیے، چونکہ زبان انسان کے اعضاء میں سے سب سے زیادہ نافرمان، سب سے زیادہ گناہ گار اور سب سے زیادہ باعث فساد ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو ان کی زبانوں کی حرکتوں کے سبب جہنم میں ڈالا جائے گا۔

عربی کا مشہور شاعر جریرکا کہنا ہے:
وجرح السّیف تُدْملُهُ فیبرا***ویبقى الدّهر ما جرح اللسان!
(ترجمہ: تلوار کا زخم مٹ جاتا ہے، لیکن زبان کا زخم زمانہ بھر باقی رہتا ہے۔ )

سفیان بن عبداللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں نے کہا: اے اللہ کے رسول مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں، فرمایا: ربی اللہ کہو، اور اس پر ثابت قدم رہو، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کونسی چیز ہےجس کا میرے سلسلے میں آپ کو سب سے زیادہ خوف ہے؟، تو آپﷺ نے اپنی زبان مبارک کو ہاتھ لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا۔

جس طرح بندے کو اپنے زبان کی حفاظت کرنا ضروری ہے اسی طرح گناہوں کی باتوں سے اپنے کانوں کی حفاظت کی بھی اس پر ذمہ داری ہے۔ چونکہ بُری باتوں کو سننا بھی کہنے والے کی طرح ہے لہٰذا اس سلسلے میں متنبہ رہنا ضروری ہے۔

بہت سے امور میں زبان کی حفاظت کے سلسلے میں لاپرواہی اور غفلت نفس انسانی اور خواہشات کو متاثر کرتی ہے، زبان جہاں ایک نعمتِ عظمی ہے وہیں یہ ایک آفت اور آزمائش بھی ہے، زبان کی بے شمار آفتیں ہیں جن میں سے چند ہم نے ذیل میں پیش کی ہیں :
ان کے علاوہ ہر وہ بُری بات جو زبان پر آتی ہے، زبان کی آفتوں میں شامل ہیں۔

حضرت عطیہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے جب نبی کریمﷺ سے نجات کے بارے میں سوال کیا تو آپﷺ نے انہیں نصیحت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: اپنی زبان کو روکے رکھو، اللہ نے جو مقدر کیا ہے اس پر راضی ہو جاؤ اور اپنی خطا پر رویا کرو۔

مومنین کو زبان کی تباہ کاریوں سے بچنے میں کوتاہی اور غفلت سے کام نہیں لینا چاہیے، جو افراد غافل ہیں ان کے حق میں قرآن کریم مومنین کو یاد دہانی کرانے کا حکم دیتا ہے: وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِینَ] الذّاریات: 55]. اور نصیحت کرتے رہو کہ نصیحت مومنوں کو نفع دیتی ہے۔

اور آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ زبان دو عظیم آفتوں کا سرچشمہ ہے، اگر انسان ایک سے بچتا ہے تو دوسری کا شکار ہو جاتا ہے، سوائے اُس شخص کے جسے اللہ بچائے، جس میں سے ایک زبان کو حرکت دینا ہے اور دوسری خاموشی ہے، کیونکہ حق کے سلسلے میں خاموشی اختیار کرنے والا گونگا شیطان اور باطل کا طرفدار ہے۔

ایک حکیم کا قول ہے:

چھ عادتوں سے جاہل کو پہچانا جاتا ہے:

۱۔ بے وجہ غصہ ہونے سے

۲۔ راز کا افشاء کرنے سے

۳۔ لوگوں سے اختلاف رکھنے سے

۴۔ بے موقع ہدیہ دینے سے

۵۔ دشمن اور دوست کو نہ پہچاننے سے

۶۔ بے فائدہ بات کرنے سے

علماء نے خاموشی کی سات طرح سے تعریف کی ہیں :

۱۔ خاموشی بغیر تھکن کی ایک عبادت ہے۔

۲۔ خاموشی بغیر زیور کی زینت ہے۔

۳۔ خاموشی سلطان و حاکم کے درجے پر نہ ہونے کے باوجود رعب کا باعث ہے۔

۴۔ اظہار معذرت سے بے نیازی کا ذریعہ ہے۔

۵۔ خاموشی بغیر دیوار کا ایک قلعہ ہے۔

۶۔ کراماً کاتبین کے لئے باعث راحت ہے۔

۷۔ متکلم یعنی بات کرنے والے کے عیوب کا ستر ہے۔

لقمان حکیم کا قول ہے:

خاموشی ایک حکمت ہے لیکن اس پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں ۔

زبان کے استعمال کے لیے اطاعت باری تعالیٰ اور اُس کا ذکر و شکر ایک وسیع میدان ہے، نیز انسان کے بس میں ہے کہ وہ اپنی زبان کو معاصی اور نافرمانیوں میں استعمال کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے ذکر میں استعمال کرے اور زبان کے ذریعے اپنے درجات کو بلند کرنے کی کوشش کرے، قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام کرے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے۔

BACK TO INDEX PAGE